(ویب ڈیسک)دنیا کے زیادہ تر ممالک میں پتلی کمر اور دبلا پتلا جسم خوبصورت سمجھا جاتا ہے، لیکن افریقہ کے ایک ملک میں اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں جتنی زیادہ چربی، اتنی زیادہ خوبصورتی سمجھی جاتی ہے، اور ماں باپ اپنی بیٹیوں کو زبردستی موٹا بنانے کیلئے ہزاروں کیلوریز کا کھانا کھلاتے ہیں۔اس معاملےکو گہرائی میں جاننے کیلئے اس رپورٹ کو پورا ضرور پڑھیں۔
بھارت کے ایک اردو اخبار کی ویب نیوز کے مطابق دنیا بھر میں خوبصورتی کے معیار الگ الگ ہیں۔ جہاں زیادہ تر ممالک میں پتلی کمر اور دبلا پتلا جسم خوبصورت سمجھا جاتا ہے تو وہیں افریقہ کے ملک موریطانیہ میں اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں جتنی زیادہ چربی، اتنی زیادہ خوبصورتی۔ اس ملک میں موٹی لڑکیوں کو پرکشش کہا جاتا ہے، جبکہ دبلی پتلی لڑکیوں کو بدصورت سمجھا جاتا ہے۔ اس ثقافت میں ماں باپ اپنی بیٹیوں کو زبردستی موٹا بنانے کے لیے ہزاروں کیلوریز کا کھانا کھلاتے ہیں، تاکہ وہ پرکشش نظر آئے۔
براعظم افریقہ کے ملک موریطانیہ میں اس رسم کا نام ’’لیبلوہ“ یا ’’گیواج“ے۔ لیبلوہ کی یہ رسم زیادہ تر دیہی علاقوں میں رائج ہے۔ یہاں 5 سے 19 سال کی لڑکیوں کو ’’موٹا بنانے والے فارم‘‘ یا گھروں میں زبردستی کھانا کھلایا جاتا ہے۔ اونٹ کے دودھ، کُسکُس، مونگ پھلی کے تیل، مکھن اور خالص جانوروں کی چربی سے بنے کھانے کے ذریعے ایک دن میں 10,000 سے 16,000 کیلوریز تک دی جاتی ہیں۔ یہ عام انسان کی ضرورت سے چار گنا زیادہ ہے۔ اگر لڑکیاں کھانے سے انکار کریں تو مائیں یا بڑی خواتین انہیں مارتی ہیں، ٹانگوں کے درمیان لکڑی رکھنا، قے کروانا یا دیگر اذیتیں دینا جیسے طریقے استعمال کرتی ہیں۔
موریطانیہ میں ’’لیبلوہ‘‘ رسم کے تحت لڑکیوں کو ایک دن میں بھاری مقدار میں کیلوریز تک دی جاتی ہیں ، جن میں وٹامن اے 2,000 سے 3,000 ، وٹامن بی 10,000 سے 16,000،وٹامن سی 5,000 سے 7,000 اور وٹامن ڈی20,000 سے 25,000 شامل ہیں۔ موریطانیہ کے روایتی ماؤر معاشرے میں موٹاپے کو دولت، خوشحالی اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ اگر بیوی موٹی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ شوہر اسے اچھی طرح کھلا پلا سکتا ہے۔ دبلی عورت کو غربت یا شوہر کی کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے لڑکیوں کو کم عمر میں موٹا کر کے شادی کے قابل بنایا جاتا ہے۔ مقامی کہاوت بھی یہی ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے دل میں اتنی جگہ گھیرتی ہے جتنی وہ اس کے بستر پر گھیرتی ہے۔ اس رسم کی وجہ سے کئی لڑکیوں کی جلد شادی کر دی جاتی ہے کیونکہ موٹا جسم انہیں عمر سے زیادہ بالغ ظاہر کرتا ہے۔ دیہی علاقوں میں 75 فیصد تک خواتین اس رسم کا سامنا کرتی ہیں، جبکہ شہروں میں یہ کم ہو کر 10 سے 25 فیصد رہ گئی ہے۔
ویب رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ لیبلوہ کی وجہ سے لڑکیوں کو شدید صحت کے مسائل ہوتے ہیں۔ موٹاپے کی وجہ سے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں، جوڑوں کا درد اور سانس کی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔ بعض صورتوں میں لڑکیوں کو جانوروں کو موٹا کرنے والے کیمیکل بھی دیے جاتے ہیں جو مزید خطرناک ہوتے ہیں۔ کئی لڑکیاں ذہنی اذیت بھی برداشت کرتی ہیں کیونکہ انہیں زبردستی کھانا پڑتا ہے اور دبلا ہونے پر خاندان کو شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔اقوام متحدہ اور خواتین کے حقوق کے کارکنان اس رسم کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔ کچھ مائیں اسے محبت کا اظہار سمجھتی ہیں کیونکہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی بیٹی اچھی شادی کرے اور عزت حاصل کرے۔ لیکن نوجوان نسل اور شہروں میں تعلیم بڑھنے کے ساتھ یہ رسم کم ہو رہی ہے۔