ویب ڈیسک: یمن میں حوثی قیادت نے اہم عالمی تجارتی راستے آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جس سے عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل پر بڑے اثرات پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
صنعا میں حوثی حکومت کے نائب وزیر خارجہ نے بیان دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کی اور کہا کہ وہ خطے میں امن کے قیام میں رکاوٹیں ڈالنا بند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ کشیدگی میں اضافے کی ذمہ داری امریکی پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے باب المندب خلیج عدن کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے اور یہ دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں عالمی تجارت گزرتی ہے۔
دوسری جانب ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر چکا ہے، جس کے باعث تجارتی جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ گزرگاہ مکمل کنٹرول میں ہے اور اس کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی واضح کیا ہے کہ جب تک امریکہ ایران سے آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت بحال نہیں کرتا، آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی جاری رہے گی۔