ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے خلع لینے والی خاتون کو بھی حق مہر کا حق دار قرار دے دیا ۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے شہری آصف محمود کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔ آٹھ صفحات کا فیصلہ عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے، عدالتی فیصلے میں قرآنی آیات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے خلع کی بنیاد پر حق مہر اور جہیز کی رقم دینے کی 3 لاکھ روپے کی ڈگری کو چیلنج کیا تھا، درخواست گزار نے خلع کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کے بعد حق مہر طلب کرنے کو چیلنج کیا تھا۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق بیٹی کو جہیز دینا ہمارے معاشرے میں سرائیت کر چکا ہے، والدین جتنی بھی استطاعت رکھتے ہوں وہ اپنی بیٹی کو جہیز لازمی دیتے ہیں، طلاق دینا بنیادی طور پر شوہر کا حق ہوتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی روشنی میں طلاق کی صورت میں شوہر اہلیہ سے تحائف و حق مہر واپس نہیں مانگ سکتا، سورۃ النساء میں بھی شوہر کو بیوی سے دیئے گئے مال اور تحائف واپس مانگنے سے روکا گیا ہے۔
وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے تحت محض ناپسند کی بنیاد پر خلع کی صورت میں خاتون کو حق مہر واپس کرنا ہو گا، خاوند کے تشدد، برے رویے کی وجہ سے خلع پر عدالت خاتون کو حق مہر کی رقم واپس نہ کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ شادی دونوں فریقین کے لئے ایک معاہدے جیسی ذمہ داری ہے، محض خلع لینے کی بنیاد پر خاتون کو حق مہر کی رقم سے محروم نہیں کیاجا سکتا، حق مہر کی رقم کو خاتون کے لئے ایک سکیورٹی تصور کیا جاتا ہے، اگر خاوند کا رویہ خاتون کو خلع لینے پر مجبور کرے تو وہ حق مہر لینے کی مکمل حقدار ہے۔
عدالت نے شہری آصف محمود کی حق مہر اور جہیز کی رقم دینے کی جاری ڈگری کے خلاف دائر اپیل کو بلاجواز قرار دے کر مسترد کردیا۔ فیصلے کے مطابق درخواست گزار آصف محمود نے بیوی پر تشدد اور ظلم کے الزامات کی تردید فیملی عدالت میں نہیں کی، جب ایک خاتون اپنے شوہر کے بالخصوص برے رویے، ظلم اور تشدد سے تنگ آکر خلع لے اسے حق مہر سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔