ویب ڈیسک: پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد راولپنڈی، اسلام آباد میں سیکیورٹی پلان پر عملدرآمد شروع کرتے ہوئے راستے بند کرنے کا پلان تیار کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے 27 ستمبر لانگ مارچ کے اعلانات کے بعد راولپنڈی، اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ جڑواں شہروں کے داخلی و خارجی راستوں کی ممکنہ بندش کے لیے پلان تیار کرلیا گیا ہے، جبکہ اہم شاہراہوں پر کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹک، کٹی پہاڑی، جہلم پل اور چکوال سے آنے والے راستوں پر بھی رکاوٹیں لگانے کے اقدامات کیے جائیں گے جبکہ ہزارہ، مری اور گلیات سے آنے والے راستوں پر بھی کنٹینرز لگائے جائیں گے۔
ٹیکسلا، مارگلہ چیک پوسٹ، 26 نمبر چونگی، ترنول اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ٹی چوک سے راولپنڈی اور اسلام آباد آنے والے راستوں پر بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
پنجاب کے مختلف اضلاع سے اضافی پولیس نفری راولپنڈی اور اسلام آباد تعینات کی جائے گی۔
دفعہ 144 کی خلاف ورزی، راستے بلاک کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق موٹروے، اسلام آباد انٹرچینج، ہزارہ ایکسپریس وے، جی ٹی روڈ اور مری ایکسپریس وے پر بھی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔
آنسو گیس کے شیل فائر کرنے والی بکتر بند گاڑیاں اور اضافی ربڑ بلٹس بھی طلب کرلی گئی ہیں، جبکہ موبائل فون سروس کی بندش پر بھی غور جاری ہے۔
اڈیالہ جیل اور اس کے اطراف ریڈ زون طرز کے سیکیورٹی انتظامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے ہوٹلز اور مسافر خانوں میں مقیم افراد کی نگرانی اور سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔