ویب ڈیسک: نیویارک سٹی کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی کی سالانہ تنخواہ نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں صارفین نے اسے "حیرت انگیز طور پر کم" قرار دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ممدانی کو نیویارک سٹی کے میئر کے طور پر 258,750 ڈالر سالانہ تنخواہ ملے گی، جبکہ انہیں گریسی مینشن میں بغیر کرایہ ادا کیے رہائش اختیار کرنے کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔
مالیاتی دستاویزات کے مطابق ممدانی کی مجموعی ذاتی دولت تقریباً 200,000 ڈالر ہے۔
سوشل میڈیا پر مختلف صارفین نے کہا ہے کہ نیویارک جیسے عالمی سطح کے شہر کے میئر کو اس سے کہیں زیادہ تنخواہ ملنی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ " نیویارک سٹی کے میئر کی تنخواہ بڑی ٹیک یا لا فرم کے انٹری لیول ملازم سے بھی کم ہے۔" ایک اور صارف نے کہا کہ "اتنے بڑے شہر کو چلانے کے لیے درکار مہارت کے مقابلے میں یہ تنخواہ کم ہے۔"
دیگر صارفین کا خیال ہے کہ نیویارک کی ٹریلین ڈالر معیشت کو دیکھتے ہوئے میئر کی تنخواہ کئی گنا زیادہ ہونی چاہیے، اور وکاس ریڈی جیسے ٹیک کاروباری شخصیات نے تجویز دی کہ "میئر کو کم از کم پانچ ملین ڈالر سالانہ ملنے چاہئیں۔"
ظہران ممدانی اس ماہ کے اوائل میں ہونے والے انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے اور جنوری میں اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔ وہ 34 سال کی عمر میں نیویارک سٹی کے پہلے مسلمان اور گزشتہ ایک صدی کے سب سے کم عمر میئر ہوں گے۔