(ویب ڈیسک)بھارت کی ریاست مہارشٹرا کے شہر پونے سے پرچہ لیک ہونےکےکیس میں ملوث ہونے کے شبہ میں بایئولوجی کا لیکچرار اور باٹنی کی ٹیچر کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، دونوں ہی امتحانی ادارہ این ٹی اے میں ایکسپرٹ کی حیثیت سے ’’خدمات‘‘ انجام دے رہے تھے، یہ شبہ تقویت پارہا ہے کہ یہ اندر کے لوگوں کی کارستانی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے ادارےسی بی آئی نے ہفتے کے روز بیالوجی کی لیکچرار منیشا مندھارے کو پونے سے گرفتار کیا ہے جن کی تقرری امتحانی ادارہ این ٹی اے میں ایکسپرٹ کے طور پر اسی سال ہوئی تھی۔ سی بی آئی کے مطابق منیشا گروناتھ مندھارے کی نگرانی میں باٹنی اور زوالوجی کا پرچہ تھا۔ اپریل2026 میں انہوں نے پونے ہی کی منیشا واگھمارے (جو 14 مئی کو گرفتار کی گئیں) کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ وہ نیٹ کے امتحان کی تیاری کرنے والے طلبہ کو ہموار کریں اور اُن کیلئے اپنی رہائشگاہ پر خصوصی کوچنگ کلاسیز چلائیں۔تفتیشی ایجنسی نے یہ بھی بتایا ہے کہ مندھارے نے باٹنی، زوالوجی کے کئی سوالات لکھوائے تھے۔
دریں اثناء سی بی آئی نے ملک بھر میں کئی مقامات پر چھاپے مارے اور لیپ ٹاپ، بینک کھاتہ کی تفصیل (بینک اسٹیٹمنٹ) اور موبائل فون ضبط کئے نیز چھ افراد کو گرفتار کیا جن پر پرچہ لیک معاملے میں ملوث ہونے کا شبہ تقویت پا چکا ہے۔ گرفتار شدگان میں ایک کیمسٹری کا لیکچرار پی وی کلکرنی ہے جس پر کیمسٹری کے سوال لیک کرنے کا الزام ہے۔ کلکرنی کے پاس کیمسٹری کا پرچہ تھا لہٰذا یہ سمجھا جارہا ہے کہ انہی کے پاس سے پرچہ لیک ہوا۔ کلکرنی بھی سبجیکٹ ایکسپرٹ کی حیثیت سے پرچہ سیٹ کرنے والوں میں شامل ہیں۔ اپریل کے آخری ہفتے میں اس لیکچرار نے واگھمارے کے ذریعہ کئی طلبہ کو ہموار کیا تھا۔ پونے کی رہائش گاہ میں خصوصی کوچنگ کلاس میں طلبہ کو سوال لکھوائے گئے اور جوابات بتائے گئے۔ طلبہ نے یہ سب اپنی نوٹ بکس میں نقل کرلیا تھا۔ اب یہ بھید کھلا کہ جو سوال مع جواب لکھوائے گئے تھے وہ وہی تھے جو اصل سوالیہ پرچے میں آئے۔ مذکورہ گرفتاریوں سے پہلے اہلیہ نگر سے دھننجے لوکھنڈے، ناسک سے شوبھم کھیرنار، جے پور سے مانگی لال بیوال، وکاس بیوال اور دنیش بیوال کو نیز گروگرام سے یش یادو کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
بھارتی ایجنسسی سی بی آئی منیشا کو بیالوجی پیپر لیک کرنے کا اصل ماسٹر مائنڈ قرار دے رہی ہے جو پونے کی رہنے والی ہیں، باٹنی کی ٹیچر ہیں اور این ٹی اے سے بحیثیت ایکسپرٹ وابستہ ہیں۔یہ رہنے والی تو پونے کی ہیں مگر سی بی آئی نے ان سے دہلی میں تفصیلی باز پرس کی۔ تفتیش کاروں کے مطابق باٹنی اور زوالوجی کے پرچے انہی کی تحویل میں تھے۔ پونے کے شیواجی نگر علاقے میں یہ مبینہ طور پر ایک آرٹس سائنس اور کامرس کالج سے وابستہ ہیں اور نیٹ امتحان کیلئے پرچے تیار کرنے کی خدمت گزشتہ پانچ تا چھ سال سے کررہی تھیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سی بی آئی کے آپریشن سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ یہ نیٹ ورک خاصا بڑا ہے جس میں اندر کے لوگ ہیں، درمیانی لوگ ہیں اور پھر وہ طلبہ ہیں جو نیٹ کی تیاری کررہے تھے اور جنہوں نے پرچہ خریدنے پر آمادگی ظاہر کی۔ سی بی آئی نے اسے منظم نیٹ ورک قرار دیا ہے۔ اس دوران سی بی آئی دنیش بیوال کے بیٹے رشی بیوال کو تلاش کررہی ہے جس پر الزام ہے کہ اسکے پاس لیک ہونے والا پرچہ تھا۔ تفتیش کے مطابق دنیش بیوال نے پرچہ حاصل کرنے کیلئے 10 لاکھ روپے ادا کئے تھے۔
بھارتی ایجنسی سی بی آئی نے جس تیزی سے یہ آپریشن انجام دیا اور اب بھی مزید جگہوں پر چھاپے کے ذریعہ پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں سرگرم ہے۔ اس سے اُمید کی جارہی ہے کہ پرچہ لیک کا مسئلہ صرف نیٹ کیلئے نہیں بلکہ دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کیلئے بھی حل ہوسکے گا اور آئندہ ایسے واقعات نہیں ہونگے مگر سی بی آئی کا کام تفتیش ہے، آئندہ کیلئے ضمانت تو وہ ادارہ دیگا جو مقابلہ جاتی امتحان منعقد کرتا ہے۔ اگر اس کے اپنے ایکسپرٹس میں ایسے لوگ ہیں جو مبینہ طور پر خود پرچہ لیک کرتے ہیں تو کس بنیاد پر اُمید کی جائے کہ آئندہ وہ نہیں ہوگا جو اس سال ہوا اور جس کی وجہ سے 3 مئی کا امتحان منسوخ کرنا پڑا۔ اسکی وجہ سے پورا ملک سکتے میں آگیا کیونکہ23لاکھ طلبہ کی ذہنی و نفسیاتی صحت کا مسئلہ اچانک آن کھڑا ہوا۔ اب تک تین طلبہ کی خود کشی کی خبر ہے۔