سٹی42:وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت کوئی بھی صوبہ خوراک کی ترسیل پر پابندی نہیں لگا سکتا، بد قسمتی سے پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی میں گندم پر پابندی اور سی این جی کی بندش کے معاملے پر اجلاس کے بعدے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے گورنر فیصل کریم کنڈی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹے و گندم کی ترسیل پر پابندی کے معاملے پر ہم بار بار پنجاب حکومت کو خطوط لکھ چکے ہیں ، پابندی کا معاملہ وفاق کے علم میں لانے کے باوجود پنجاب حکومت کو کوئی منع نہیں کرتا ، خیبرپختونخوا کا شہری بجلی ، گیس اور دیگر وسائل دینے کے باوجود مہنگا آٹا خریدے یہ زیادتی ہے ، صوبہ خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، خیبرپختونخوا 508 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے استعمال صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی کرتا ہے ، 508 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرنے باجود 150 بھی نہیں دی جا رہی ، یہ قومی یک جہتی کے لیے نقصان دہ ہے ، آئین کے آرٹیکل 158 اور 151 دونوں کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نےکہا کہ صوبے کے عوام کے ساتھ امتیازی اور سوتیلی ماں جیسا سلوک نہ کیا جائے اس میں ہم سب کی بھلائی ہے ،آپ کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے خیبرپختونخوا کا امن خراب ہوا ہے ،سی آر بی سی میں خیبرپختونخوا حکومت اپنا حصہ دے رہی ہے ، وفاق اپنا کمٹڈ حصہ نہیں دے رہا ،وفاق کے دیگر منصوبوں میں برییج فنانسنگ کر رہے ہیں مگر وفاق تعاون نہیں کر رہا،پشاور میں اسٹیٹ آف دی آرٹ بس ٹرمینل بنایا ہے مگر وفاق راستہ نہیں دے رہا ، گیس کی بندش غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، خیبرپختونخوا حکومت اس کو بالکل نہیں سپورٹ کرے گی۔انتظامیہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت کے کسی بھی غیر آئینی اور قانونی کا اقدام کا ساتھ نہ دے ، ہم سب ایک آواز ہو کر زیادتیوں کے خلاف سڑکوں پر آئیں گے۔
آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت کوئی بھی صوبہ خوراک کی ترسیل پر پابندی نہیں لگا سکتا، بد قسمتی سے پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے ، ہم وفاق اور پنجاب حکومتوں کو خطوط لکھ چکے ہیں ، اراکین اسمبلی یک زبان ہوکر کراردادیں منظور کر چکے ہیں ، وفاق نے اے آئی پی کے 37 ارب روپے پر 12 ارب روپے کا کٹ لگا دیا ہے ، صوبے کا مالی مقدمہ لڑنے کے لیے ہم نے اپوزیشن اراکین کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنائی ہے ،دہشتگردی کے خاتمے کے لیے حل بتائے مگر ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ،جو حکمت عملی ہم نے بتائی ہے اگر اس پر عملدرآمد کیا جائے تو 100 دنوں میں امن قائم ہو جائے، دیر پا امن کے لیے ایک ہی پالیسی ہونی چاہیے ، یہی واحد حل ہے۔