ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسگی کیس، لاہور ہائیکورٹ کی کمیٹی بنا کرتفتیش کی ہدایت

تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسگی کیس، لاہور ہائیکورٹ کی کمیٹی بنا کرتفتیش کی ہدایت
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : پرائیویٹ تعلیمی ادارے میں طالبہ سے زیادتی کے معاملے پر دائر درخواست،ہائیکورٹ نے چیف سیکرٹری کو ہراساں کرنے کے معاملے کی انکوائری کا حکم دیدیا،عدالت نے چیف سیکرٹری کو انکوائری کی ذمہ داری دیکر درخواست نمٹا دی،عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ کی کارکردگی کی تعریف بھی کی۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں فل بنچ نے کیس کی سماعت کی، ڈائریکٹر سائبر کرائم حشمت کمال، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا سمیت دیگرافسران پیش ہوئے، ڈپٹی اٹارنی جنرل اسدعلی باجوہ نےبتایا کہ پرائیویٹ کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے معاملے پرایف آئی آر بھی درج کرلی گئی ہے، متاثرہ لڑکی، اس کے والدین اور دیگر طلباء کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ نے مزید کہا متاثرہ طالبہ اور اسکے والدین نے تصدیق کی کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، دیگر طلباء کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔ جس خاتون نےبچی کی والدہ ہونے کا دعوی کیا وہ گرفتار ہے، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا آپ کے ملک میں قانون موجود ہے، جب اس پر عمل نہیں ہوتا تو برائی بڑھتی ہے، قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو قانون پر عمل کرنا چاہئیے۔ادارے بروقت اپنا کام کرتے تو افراتفری نہ پھیلتی۔

Ansa Awais

Content Writer