ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ناکافی شواہد پر مبنی مقدمات کو ٹرائل کے لیے بھیجنے کے بجائے ابتدائی مرحلے پر ہی نمٹانے کا فیصلہ

ناکافی شواہد پر مبنی مقدمات کو ٹرائل کے لیے بھیجنے کے بجائے ابتدائی مرحلے پر ہی نمٹانے کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے ناکافی شواہد پر مبنی مقدمات کو ٹرائل کے لیے بھیجنے کے بجائے ابتدائی مرحلے پر ہی نمٹانے کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے ایک اہم عدالتی نظیر قائم کر دی ہے۔

جسٹس  محمد امجد رفیق نے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے ،تحریر کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کمزور شواہد والے مقدمات نہ صرف عدالتی نظام پر غیر ضروری بوجھ ڈالتے ہیں بلکہ ریاستی وسائل کے ضیاع کا سبب بھی بنتے ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگر کسی مقدمے میں ریکارڈ پر موجود شواہد ناکافی ہوں تو اسے ٹرائل کے لیے بھیجنے کے بجائے ڈسچارج یا بری کرنے کا اختیار عدالت کو حاصل ہے۔ فیصلے کے مطابق عدالت پراسیکیوشن کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم کو ڈسچارج کرنے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پراسیکیوشن کا کردار محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک مؤثر فلٹرنگ سسٹم ہونا چاہیے تاکہ کمزور اور بے بنیاد مقدمات ابتدائی مرحلے پر ہی روک دیے جائیں۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس رپورٹ کی مؤثر جانچ اور شواہد کی چھان بین پراسیکیوشن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

عدالتی آبزرویشن میں کہا گیا کہ بے بنیاد مقدمات عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں، اس لیے پراسیکیوشن کو اپنی اسکریننگ کے عمل کو مزید مؤثر بنانا ہوگا تاکہ صرف مضبوط مقدمات ہی ٹرائل تک پہنچ سکیں۔فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ اگر کسی کیس میں بعد ازاں مزید شواہد سامنے آئیں تو اسے دوبارہ کھولنا قانونی طور پر ممکن ہے، تاہم اس کا انحصار نئے مواد اور قانونی تقاضوں پر ہوگا۔

عدالت نے مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج کے سابقہ احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار کو قانون کے مطابق نئی درخواست دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔اس کیس کے دوران ایک شہری کو کردار سرٹیفکیٹ کے معاملے میں بھی ریلیف فراہم کیا گیا، جسے عدالت نے اہم قانونی پہلو قرار دیا۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پراسیکیوشن کا ادارہ محض ایک رسمی فریق نہیں بلکہ ایک فلٹرنگ اتھارٹی ہے جس کا مقصد کمزور مقدمات کو آگے بڑھنے سے روکنا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام فوجداری معاملات میں اس اصول کو مدنظر رکھا جائے کہ کمزور شواہد والے مقدمات کو ٹرائل تک نہ پہنچایا جائے۔یہ فیصلہ آئندہ فوجداری مقدمات میں ایک اہم عدالتی رہنمائی  کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے توقع ہے کہ عدالتی نظام میں غیر ضروری مقدمات کی تعداد میں کمی آئے گی۔