ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کو ممکنہ پولیس مقابلے میں ہلاکت روکنے کا فوری حکم دینے کی استدعا مسترد کر دی، جسٹس فاروق حیدر نے ریماکس دئیے کہ عدالت خدشات کی بناء پر کوئی حکم جاری نہیں کرسکتی ،عدالت نےلاء افسر سے سی سی ڈی کی قانونی حیثیت اور میکانزم کے متعلق معاونت کی ہدایت کر دی۔
جسٹس فاروق حیدرنےشہری اعظم علی کی درخواست پرسماعت کی، درخواستگزار نےاپنے بیٹے راحت علی کی ممکنہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے خدشہ کے پیش نظر ہائیکورٹ سے رجوع کیا،جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد ادریس رفیق بھٹی پیش ہوئے، وکیل نے موقف اختیار کیاکہ درخواستگزارکا بیٹا راحت متعدد جرائم میں گرفتار اورسیالکوٹ جیل میں ہے، خدشہ ہے اسکے بیٹے کو پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا جائیگا،وکیل درخواستگزار نے استدعا کی کہ عدالت درخواستگزارکےبیٹے کومبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے سے روکنے کا حکم دے، جسٹس فاروق حیدر نے کہا خبریں سن رہے ہیں کہ سی سی ڈی پنجاب میں پولیس مقابلے کررہی ہے، مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے خدشہ پرعدالت کوئی کیسے حکم جاری کرسکتی ہے،دیکھنا ہے کہ پنجاب پولیس کی موجودگی میں سی سی ڈی کو بنانے کی کیا ضرورت محسوس ہوئی ،عدالتیں آئین اورقانون کی بالادستی کیلئے کام کرتی ہیں، دیکھنا ہے کہ کیا سکیورٹی ادارے فیل ہوگئے جو سی سی ڈی بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی،عدالت نے سماعت 22 جولائی تک ملتوی کردی۔۔