سٹی42: مسافروں سے بھرا طیارہ ائیر پورٹ پر لینڈنگ کے دوران الٹ گیا۔ یہ حادثہ جہازوں کی سیفٹی کے اصولوں پر عملدرآمد کی وجہ سے انتہائی خوفناک حادثہ میں بدلنے سے بچ گیا۔ خوفناک حادثہ کی ویڈیو کلپ بن گئی جو اس وقت سوشل پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہی ہے۔
اس خوفناک حادثہ میں پندرہ مسافر زخمی ہو گئے، طیارے کو الٹنے کے بعد آگ لگنے سے بچا لیا گیا ورنہ جانی نقصان شدید ہو سکتا تھا۔
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پیئرسن ائیر پورٹ پر مسافر طیارے کی لینڈنگ کے دوران اُلٹنے کی ویڈیو سامنے آگئی۔ ایک مسافر نے طیارے کے گرنے کے بعد بحفاظت نکال لئے جانے کے بعد بتایا کہ جب طیارہ الٹا تو وہ اتفاق سے طیارے کے اندر "چمگادڑوں کی طرح" الٹالٹک گئے تھے۔
اس حادثے کی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ برف پڑے رن وے پر طیارے کی لینڈنگ اچانک کریش لینڈنگ ثابت ہوئی۔ حادثہ میں طیارہ نے پہلو کے بل قلابازی کھائی اور اس کے وہیلز والی سائیڈ اوپر ہو گئی۔

طیارے کے اندر مسافروں نے لینڈنگ کے لئے سیٹ بیلٹیں باندھ رکھی تھیں، وہ اپنی نشستوں پر الٹے لتک گئے۔ جن مسافروں نے کسی وجہ سے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی تھی، انہیں طیارہ الٹنے سے زیادہ زخم آئے۔ پیر کے روز میناپولس سے ٹورنٹو جانے والا طیارہ پیئرسن انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کے دوران اُلٹ گیا تو اس وقت اس میں 80 مسافر سوار تھے۔ ایک بچے سمیت کم از کم 15 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 2 زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
ائیرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طیارے میں سوار مسافر اور عملے سے معلومات لی جارہی ہیں جب کہ کینڈین پولیس کے مطابق زیادہ تر مسافر طیارے سے بحفاظت نکل چکے ہیں۔
سی این این نے اپنی رپورٹ میں فائر چیف ٹوڈ ایٹکن کے حوالے سے بتایا کہ کینیڈا کے ٹورنٹو پیئرسن بین الاقوامی ہوائی اڈے پر طیارہ گرنے سے کم از کم 18 افراد زخمی ہو گئے۔
حادثہ کی وجہ کا تعین؛ دو رن وے کچھ دن بند رہیں گے
ہوائی اڈے کے سی ای او ڈیبورا فلنٹ نے پہلے جواب دہندگان کے "ٹیکسٹ بک ریسپانس" کو اس بات کو یقینی بنانے کا سہرا دیا کہ کوئی جان نہیں گئی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ دو رن وے اگلے چند دنوں تک بند رہیں گے کیونکہ تفتیش کار حادثے کی وجہ کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سی این این نے اپنی رپورٹ میں یاد دلایا کہ یہ واقعہ واشنگٹن ڈی سی کے ریگن نیشنل ہوائی اڈے کے قریب پہنچتے ہوئے امریکی ائیرلائنز کا ایک طیارہ یو ایس آرمی کے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سے فضا میں ٹکرانے کے تین ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد پیش آیا ہے، اور دسمبر میں جیجو ایئر اور آذربائیجان ایئر لائنز کے مہلک حادثات کے بعد یہ حادثہ سامنے آیا ہے۔
حادثہ کہیں زیادہ تباہ کن ہو سکتا تھا
سی این این نے اس حادثہ کے متعلق اپنی رپورٹ میں ایروپلین سیفٹی کے ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ سیفٹی کے نظام مین بہتری کے سبب ٹورنٹو میں ایک "بہت زیادہ خراب" حادثہ ٹل گیا۔
سی این این کے جرنلسٹ ایڈورڈ سیکیرس نے اپنی رپورٹ میں لکھا, "ایوی ایشن سیفٹی کے ایک ماہر نے پیر کو کہا کہ ہوائی جہاز کے ڈیزائن اور سیٹ کی حفاظت میں پیشرفت نے ٹورنٹو میں ڈیلٹا ایئر لائنز کے طیارے کے حادثے کو "بہت بدتر" ہونے سے روک دیا۔"
سی این این کے حفاظتی تجزیہ کار اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے سابق سیفٹی انسپکٹر ڈیوڈ سوسی نے کہا، "جو کچھ بھی غلط ہو سکتا تھا وہ غلط ہو گیا، پھر بھی 80 لوگ حادثے سے بچ گئے۔"
سوسی نے اس حادثہ کا 1987 کے ڈینوور میں ہونے والے حادثے سے موازنہ کرتے ہوئے کہا، "زیادہ بدتر ہو سکتا تھا" ڈینوور حادثہ میں 28 افراد ہلاک ہوئے تھے جب ایک DC-9 طیارہ اسی طرح کے حالات میں پلٹ گیا تھا۔
بہتر سیفٹی اور زیادہ محفوظ نشستیں
تجزیہ کار نے کہا کہ بہتر حفاظت اور مضبوط، زیادہ محفوظ نشستوں نے دونوں واقعات میں سب سے بڑا فرق پیدا کیا۔
سوسی نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ 1987 میں، تباہ ہونے والے طیارے پر پنکھ طیارہ کی باڈی کے ساتھ جڑے رہے اور اس کے پلٹنے کے دوران (ان کی وجہ سے) طیارہ تباہ ہو گیا۔
تاہم، ٹورنٹو میں، پنکھ ڈیزائن مختلف تھا، جب طیارے کی پہلو کے بل قلابازی لگی تو پنکھ لچک کھا گئے اور طیارہ مکمل قلابازی کھا کر الٹا ہو گیا لیکن اس کی باڈی ٹوٹنے اور آگ لگنے سے محفوظ رہی۔
ٹورنٹو پیئرسن ائیرپورٹ حکام نے بیان میں کہا کہ طیارے کی لینڈنگ کے دوران پیش آنے والے واقعے سے آگاہ ہیں، ایمرجنسی ٹیمیں کام کررہی ہیں۔
طیارے کے مسافروں کی خوش قسمتی یہ ہوئی کہ ہنگامی مدد کے عملے نے طیارے تک پہنچنے اور آگ سے بچاؤ کا سپرے کرنے میں محض سیکنڈ ہی لگائے۔ اس حفاظتی اسپرے کی وجہ سے طیارے کی باڈی کے کسی بھی حصہ میں آگ نہیں لگی۔