سٹی42: امریکہ میں سپریم کورٹ کے کسی جج کو اب اس امتحان سے گزرنا ہے کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈکٹیٹر کی طرح کسی آزاد حکومتی ادارہ کے آئینی سربراہ کو بھی برطرف کر سکتے ہیں یا انہیں اس کے لئے ماضی کے صدروں کی طرح بدعنوانی کا جواز لازماً درکار ہو گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی حکومت کے اداروں پر آزاد محتسب کی طرح کام کرنے والے سرکاری ادارہ کے سربراہ کے آئینی عہدہ پر پانچ سال کیلئے فائض ہیمپٹن ڈیلنگر کو بلاوجہ برطرف کر دیا تھا۔ اس برطرفی کو ایک ضلعی عدالت کی خاتون جج نے معطل کر دیا ہے، بعد میں اپیل کی عدالت نے بھی ہیمپٹن ڈیلنگر کی برطرفی کے صدارتی حکم کو معطل ہی رکھا۔
اب ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل اس معاملہ کو ٹیکساس سٹیٹ سے درخواست دائر کر کے سپریم کورٹ میں لے آئے ہیں جہاں بیٹھے ججوں میں سے بیشتر کو قدامت پسند اور روایتاً ریپبلکن پارٹی کے سرپرستی کرنے والے جج تصور کیا جاتا ہے؛ لیکن اس خاص کیس میں سپریم کورٹ جج کو یہ مشکل سوال درپیش ہے کہ آیا کسی صدر کو مطلق العنان ڈکٹیٹر کی طرح اپنے راستے میں رکاوٹ بننے والے کسی بھی سرکاری عہدیدار کو فائر کر دینے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اختیار کو مان لینے کا نتیجہ امریکہ کے پیچیدہ پرتوں میں کام کرنے والے وفاقی جموہریت کے ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی ہو گا جس سے صدر کا تو اختیار بڑھے گا لیکن سینیٹ کے اختیارات بے معنی ہو جائیں گے اور آزاد اداروں کی خود مختار حیثیت ہوا میں تحلیل ہو جائے گی۔ اسسے صرف یہ ہی نہین ہو گا بلکہ امریکہ میں 20 جنوری کے ایگزیکٹو آرڈرز سے جنم لینے والی افراتفری جیسی صورتحال ایک ہی دن میں خوفناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔
ٹرمپ کے اختیار کا امتحان، امریکہ کی جمہوریت کا امتحان
اگر سپریم کورٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیلوں ٹرمپ کی دلیل تسلیم کر تی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ مستقبل میں صدر کو کسی بھی آزاد حکومتی ادارے کے سربراہ کو برطرف کرنے کا لامحدود اختیار حاصل ہو جائے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ وفاقی جج کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے جو ہیمپٹن ڈیلنگر کو دوبارہ ان کے عہدے پر بحال کرنے کے حق میں دیا گیا تھا۔
ہیمپٹن ڈیلنگر، جو کہ آفس آف اسپیشل کونسل کے سربراہ ہیں، ایک آزاد ادارے کی قیادت کرتے ہیں جو حکومتی بدعنوانیوں، اخلاقیات کی خلاف ورزیوں اور سرکاری ملازمین کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے، یہ عہدہ محکمہ انصاف کے خصوصی مشیر سے الگ ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ڈیلنگر کو 7 فروری کو ایک مختصر ای میل کے ذریعے بغیر کسی وجہ کے فوری طور پر برطرف کر دیا تھا تاہم، انہوں نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مقدمہ دائر کیا، جس کے نتیجے میں ضلعی عدالت کی جج ایمی برمن جیکسن نے ان کی عارضی بحالی کا حکم جاری کیا۔
بعد ازاں، اپیلز کورٹ کے ججوں نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ گیا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صدر کو حکومتی افسران کو برطرف کرنے کا مکمل اختیار ہونا چاہیے اور کسی بھی وفاقی جج کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ صدر کی انتظامی طاقت میں مداخلت کرے۔
ان کے وکیل، قائم مقام سولیسیٹر جنرل سارہ ایم ہیرس نے درخواست میں کہا: “یہ عدالت نچلی عدالتوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ عارضی احکامات کے ذریعے صدر کے اختیارات سلب کریں اور انہیں مجبور کریں کہ وہ کسی عہدیدار کو اپنی مرضی کے خلاف برقرار رکھیں۔”
ڈیلنگر اور ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کی برطرفی قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ 2024 میں جب انہیں سینیٹ کی منظوری سے تعینات کیا گیا تھا تو ان کے عہدے کی مدت پانچ سال کے لیے طے کی گئی تھی۔
امریکی قانون کے مطابق، صدر کسی آزاد ادارے کے سربراہ کو صرف غفلت، نااہلی یا سنگین بدعنوانی کی بنیاد پر برطرف کر سکتے ہیں۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں برطرف کرنے کی کوئی قانونی وجہ نہیں بتائی۔
اس ضمن میں سپریم کورٹ کے قدامت پسند ججوں کی اکثریت ماضی میں صدر کے انتظامی اختیارات کو وسعت دینے کے حق میں فیصلے دے چکی ہے۔ اس کیس میں بھی یہ امکان موجود ہے کہ عدالت صدر کو سرکاری افسران کو برطرف کرنے کا مکمل اختیار دے دے۔
اگر ٹرمپ کی دلیل تسلیم کر لی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ مستقبل میں صدر کو کسی بھی آزاد حکومتی ادارے کے سربراہ کو برطرف کرنے کا لامحدود اختیار حاصل ہو جائے گا، جو امریکی انتظامی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔
کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ 1935 کے تاریخی فیصلے Humphrey’s Executor v. United States کو ختم کر دیتی ہے تو یہ وفاقی حکومت کی ساخت کو انتہائی کمزور کر دے گا اور صدر کو ایک طاقتور ترین انتظامی قوت فراہم کر دے گا، یہ کیس صدر ٹرمپ کے اختیارات کا ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تو وہ مستقبل میں دیگر آزاد حکومتی اداروں کے سربراہان کو بھی بآسانی برطرف کر سکیں گے، جبکہ اس کے مخالف فیصلہ امریکی صدور کے اختیارات کو محدود کر دے گا۔ سپریم کورٹ آئندہ چند دنوں میں اس مقدمے پر اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے۔