ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دنیا کے برے حالات ، مضبوط اور محفوظ غار وں کی تیاری، قیمت سن کر حیران ہو جائیںگے

دنیا کے برے حالات ، مضبوط اور محفوظ غار وں کی تیاری، قیمت سن کر حیران ہو جائیںگے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: FACEBOOK
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : یورپ کے خوبصورت ملک سوئزر لینڈ  نےدنیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، جنگوں، موسمیاتی تبدیلی اور ممکنہ عالمی بحرانوں کے خدشات کے درمیان سوئزر لینڈ  کی ایک کمپنی انتہائی امیر افراد کے لیے پہاڑ کے اندر محفوظ زیرِ زمین غاریں اور والٹس تیار کر رہی ہے۔کمپنی  چونے کے پتھر کے پہاڑ کے اندر تقریباً 25 زیرِ زمین غاریں  بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے.
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق Brünig Mega Safe  نامی کمپنی سوئزر لینڈ  کے  Brünig massif میں، Lungern کے قریب، چونے کے پتھر کے پہاڑ کے اندر تقریباً 25زیرِ زمین غاریں  بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ غاریں زمین کی سطح سے100میٹر سے زیادہ گہرائی  میں ہوں گی۔  ابتدائی طور پر ان زیرِ زمین والٹس کو قیمتی اثاثوں کی حفاظت کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہاں امیر افراد اپنی  آرٹ کلیکشن، لگژری گاڑیاں، مہنگی شراب، قیمتی سامان اور دیگر اثاثے محفوظ رکھ سکیں گے۔ تاہم کمپنی اب انہیں عالمی بحران کی صورت میں عارضی پناہ گاہ کے طور پر بھی پیش کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق اضافی کمرے ذاتی عارضی رہائش، میٹنگز اور لاؤنجز کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں ایک زیرِ زمین والٹ کی ابتدائی قیمت تقریباً 5لاکھ سوئس فرانک  ہے، جو تقریباً55.4  لاکھ برطانوی پاؤنڈ کے برابر بنتی ہے۔کلائنٹس کو مبینہ طور پر 99سالہ لیز  کی پیشکش کی جا رہی ہے جبکہ کمپنی کا کہنا ہے کہ کچھ گاہک پہلے ہی معاہدے کر رہے ہیں۔ کمپنی کے چیئرمین  تھامس گیسر کے مطابق یہاں سیکوریٹی کا انتظام انتہائی سخت ہوگا۔ داخل ہونے سے پہلے خصوصی چیک پوائنٹ سے گزرنا ہوگا اور متعددسیکوریٹی چیکس کیے جائیں گے۔

رپورٹس کے مطابق  سوئزر لینڈ  کی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کمپلیکس کی سوئزر لینڈ کا معیار  سوئس نیشنل بینک  کے حفاظتی معیار کے برابر رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ زیرِ زمین کمپلیکس میں 24گھنٹے سیکورٹی موجود ہوگی۔  زیرِ زمین غاروں کا ایک اہم فائدہ ان کا قدرتی ماحول بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہاں درجہ حرارت تقریباً 13؍ ڈگری سیلسیس  کے آس پاس رہتا ہے، جو شراب، آرٹ اور بعض دیگر قیمتی اشیا کو محفوظ رکھنے کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔  کمپلیکس تک پہنچنے کے لیے اتنی بڑی سرنگ بنائی جائے گی کہ اس میں  ٹرک بھی داخل ہوسکیں  اور مالکان کو 24 گھنٹے رسائی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
سوئزر لینڈ  کی کمپنی کا  اس منصوبے کا ایک اور اہم حصہ Brünig Institute  ہے، جو سیکوریٹی ٹریننگ، خطرات کے تجزیے اور بقا کی حکمتِ عملیوں پر توجہ دے گا۔ یعنی منصوبہ صرف دولت اور قیمتی اشیا کو محفوظ رکھنے تک محدود نہیں بلکہ انتہائی حالات میں سروائیول اور رسک مینجمنٹ  سے متعلق تربیت بھی فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سوئزر لینڈمیں پہاڑوں اور زیرِ زمین فوجی تنصیبات کو تحفظ کے لیے استعمال کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ سرد جنگ کے دور کے متعدد بنکرز اور فوجی تنصیبات کو بعد میں ڈیٹا سینٹرز، محفوظ والٹس اور دیگر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ سوئس حکومت نے بھی جنگ یا بڑے بحران کی صورت میں شہریوں کے لیے بنکر سہولیات برقرار رکھنے اور اپ گریڈ کرنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ 

سوئزر لینڈ کا یہ منصوبہ دنیا بھر میں دولت مند افراد کے درمیان بڑھتے ہوئے Apocalypse Preparation  رجحان کی ایک مثال ہے۔ بعض ارب پتی اور ٹیکنالوجی کاروباری افراد پہلے ہی جنگ، جوہری تنازع، عالمی وبا یا معاشرتی انتشار جیسے انتہائی حالات کے لیے دور دراز جائیدادوں یا زیرِ زمین پناہ گاہوں میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔  تاہم ماہرین اور مبصرین کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک مضبوط بنکر عالمی تباہی کی صورت میں طویل مدتی زندگی کی ضمانت دے سکتا ہے۔