ویب ڈیسک: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا ہے کہ وزارت صحت کے ملازمین سمیت وزرا اور دیگر سرکاری ملازمین کے لیے ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ لازمی قرار دی جائے گی، جبکہ ٹیسٹ نہ کرانے والے ملازم کی تنخواہ روک لی جائے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ملک میں ایک کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں ۔وزیر اعظم ہیپاٹائٹس پروگرام کے تحت مریضوں کو 68 ہزار روپے مالیت کی دوا مفت فراہم کی جائے گی۔
وفاقی وزیر صحت کے مصطفیٰ کمال کے مطابق بیرون ملک جانے والے افراد کے لیے بھی ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ لازمی ہوگی، جبکہ ڈی پورٹ ہوکر پاکستان آنے والوں کی اسکریننگ بھی ضروری قرار دی گئی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ہر شہری کو ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ کروانا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ادارہ شماریات نے گیجٹ فراہم کر دیے ہیں جبکہ اسکریننگ کا ریکارڈ نادرا کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے اُنہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ بنوانے کے لیے بھی ہیپاٹائٹس سی ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس سی کی مفت اسکریننگ کے لیے 17 پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، جبکہ نجی اسپتالوں کو بھی اسکریننگ کے لیے کٹس فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اسکریننگ کا عمل جاری رکھا جائے گا اور سرکاری ملازمین کی اسکریننگ کے لیے تمام وزارتوں کو مراسلہ بھیجا جا رہا ہے۔