سٹی42: غزہ جنگ میں اپنے عزیزوں کی موتیں دیکھنے والے سوگوار اسرائیلیوں اور یرغمالیوں کے اہل خانہ نے حماس کے قبضے میں رہنے والوں کی رہائی کے معاہدے کی کوشش کرنے کی بجائے غزہ میں جنگ کی توسیع کی طرف جانےکے خلاف احتجاج کے لیے ملک گیر ہڑتال شروع کی۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے زیرقیادت حملے کے دوران نووا میوزک فیسٹیول میں مارے جانے والےعیدو عدری Ido Edri کی والدہ روت عدری کہتی ہیں، "میں آج صبح یہاں ہر اسرائیلی شہری سے کہتی ہوں کہ وہ جانیں بچانے کے لیے کام کرے۔"
ہڑتال سترہ اگست کو صبح شروع ہوئی اور ملک بھر میں 400 مقامات پر مظاہروں اور کارروائیوں کے ساتھ دن بھر جاری رہی۔
اکتوبر کونسل کی طرف سے تل ابیب میں کریا فوجی ہیڈکوارٹر کے سامنے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں شرکاء نے ہڑتال کا رسمی آغاز کیا۔
کاروباری اداروں کی ہڑتال میں شرکت
اس ہڑتال کی توثیق ہزاروں کاروباری اداروں، مقامی حکام اور کچھ یونینوں نے کی ہے۔ تل ابیب میں یرغمالیوں کے اسکوائر پر 1 ملین زائرین کی آمد متوقع ہے۔
یہ ہڑتال غزہ شہر پر حملہ کرکے جنگ کو وسعت دینے کے حکومتی فیصلے کے بعد اس فیصلے کی مذمت میں کی گئی ہے۔ یرغمالیوں کے رشتہ دار حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایک جامع معاہدے کے ساتھ غزہ میں جنگ کو ختم کرے تاکہ باقی تمام 50 یرغمالیوں کو رہا کیا جائے، جن میں سے کم از کم 20 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ابھی زندہ ہیں۔
نووا فیسٹیول میں مارے جانے والے ایک امریکی-اسرائیلی، لوٹن کی والدہ، نومی عبیر کہتی ہیں، "ہم اسرائیل کی حکومت کے لیے ایک سادہ مطالبے میں متحد ہیں کہ "وہ آج آخری یرغمالی کے بدلے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدے کے لیے ایک اسرائیلی خاکہ پیش کرے۔" "ان شرائط کے بغیر، ہم جانتے ہیں کہ دوسرا فریق قبول نہیں کرے گا۔"
لیشے میران لاوی، جن کے شوہر عمری غزہ میں قید ہیں، انہوں نے تل ابیب نیوز کانفرنس میں کہا، "آج تو صرف شروعات ہے۔"
وہ کہتی ہیں، "ہم جدوجہد کو تیز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔"
نیتن یاہو کی غزہ جنگ کا نیا مرحلہ کیا ہے، اسرائیلی شہری کس چیز کی مخالفت کر رہے ہیں
غزہ میں جنگ کے نئے مرحلہ میں اسرائیل غزہ شہر سے دس لاکھ افراد کو زبردستی نقل مکانی کرکے جنوب میں کیمپوں میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اس نے اس بات کا صحیح ٹائم ٹیبل فراہم نہیں کیا ہے کہ اس کی افواج غزہ شہر کے وسطی علاقہ میں کب داخل ہوں گی۔ اسرائیل کی فوج اس علاقہ میں موجود افراد کو انخلا کے لئے وارننگ اور ڈیڈ لائن دے چکی ہیں لیکن وہاں موجود بے گھر افراد کی طرف سے بتایا جا رہا ہے کہ وہ علاقہ چھوڑنے کے متعلق نہیں سوچ رہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو مبینہ طور پر پونے دو ماہ بعد آنے والی 7 اکتوبر سے پورے شہر کو اسرائیلی قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔
حماس کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج کسی جگہ موجود یرغمالیوں کے نزدیک پہنچی تو حماس کے کارکن ان یرغمالیوں کو ہلاک کر دیں گے۔
اسرائیل میں اس خدشہ کی وجہ سے کہ یرغمالی جنگ کے نئے مرحلہ کے دوران مارے جا سکتے ہیں، جنگ کو روکنے اور مذاکرات کو انجام تک پہنچانے کا مطالبہ کئی ماہ سے کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے مصر کی سرحد کے نزدیک واقعہ قصبہ میں یہ ہو چکا ہے کہ اسرائیل کی فوج ایک ایسی پناہ گاہ کے نزدیک پہنچی جہاں حماس نے یرغمالیوں کو رکھا ہوا تھا تو ان تمام پانچ یرغمالیوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد نیتن یاہو کی حکومت پر شدید تنقید ہوئی تھی اور یرغمالیوں کی واپسی کے لئے مذاکرات کو واحد راستہ کی حیثیت سے اختیار کرنے کا مطالبہ شدید ہو گیا تھا۔