ملک اشرف : ایل ایل بی طلبہ کا پنجاب یونیورسٹی کے امتحانی داخلے نہ بھیجنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ، عدالت نے کم حاضری پر درخواست واپس لینے پر خارج کردی جبکہ دوسرے طالب علم کے معاملے پر رپورٹ کل تک طلب کرلی۔
جسٹس خالد اسحاق نے طالب علم محمد بلاول اور محمد ذیشان کی درخواستوں پر سماعت کی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان پیش ہوئے۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پٹیشن میں یونیورسٹی سربراہ کے حوالے سے غیر مناسب الفاظ استعمال کیے ہیں، یہ افسوس ناک ہے۔ کیا آپ بچوں کی تربیت اس طرح کر رہے ہیں؟عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ معاملہ صرف طلبہ کی حاضری کا ہے، آپ اپنی پٹیشن پڑھیں۔درخواست گزار وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ طالب علم محمد ذیشان کی حاضری 32 فیصد ہے جبکہ طالب علم محمد بلاول کی حاضری 70 فیصد ہے۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ حاضری کتنی لازمی ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ کم از کم 70 فیصد لازمی ہے۔
جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیے:"32 فیصد حاضری والے پٹیشنر کا کیس آپ واپس لینا چاہتے ہیں یا پھر میں اسے جرمانے کے ساتھ خارج کروں؟"وکیل نے کہا کہ وہ درخواست واپس لینا چاہتے ہیں کیونکہ اس میں ایک آئینی غلطی ہے، تاہم ان کے مؤقف کے مطابق کم حاضری والے دیگر طلبہ کے داخلے بھی بھیجے گئے ہیں۔عدالت نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آپ کو بھی قانون پڑھنے کی ضرورت ہے، ایک غلط اقدام کو دوسرے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ جسٹس خالد اسحاق نے مزید کہا کہ آپ کیسا موقف اختیار کررہے ہیں جس میں طلبہ کو اساتذہ کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔درخواست گزار وکیل محمد ذیشان کی پٹیشن واپس لینے پر عدالت نے اسے خارج کر دیا۔ عدالت نے دوسرے طالب علم محمد بلاول کے معاملے پر لاء افسر کو ہدایت کی کہ پتہ کرکے بتایا جائے کہ اس کا داخلہ کس وجہ سے نہیں بھیجا گیا۔
عدالت نے لاء افسر کو 19 اگست تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔