ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آج سے مون سون بارشوں کی شدت میں اضافے کا امکان، سیاحتی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ

آج سے مون سون بارشوں کی شدت میں اضافے کا امکان، سیاحتی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ
کیپشن: File photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:ملک کے مختلف حصوں میں آج سے  مون سون کی شدت میں اضافے کا امکان ہے ،  بارشوں سے نوشہر ہ میں مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہو گئے۔

  تفصیلات کےمطابق   ملک بھر میں آج سے بارشوں میں تیزی آئے گی ، اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں بوندا باندی کا سلسلہ جاری ہے، وفاقی دارالحکومت میں چند گھنٹے میں مزید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

 پاک  افغان شاہراہ فرنٹیئر روڈ کلیئر

   ضلع خیبر کے میدانی اورپہاڑی علاقوں میں بھی  بارش کا سلسلہ جاری ہے، وادی تیراہ میں بھی بارش کے باعث ندی ،نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا،بارش سے متاثرہ پاک  افغان شاہراہ فرنٹیئر روڈ کلیئر کردی گئی ۔

   کراچی کے مختلف علاقوں میں رات کو بوندا باندی ہوئی جبکہ ڈی آئی خان میں موسلادھار بارش سے نشیبی علاقےزیرآب آگئے۔

 نوشہرہ میں گھر کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق 

 نوشہرہ میں گھر کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہوگئے۔ریسکیو ٹیم نے دونوں لاشیں اسپتال منتقل کردیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 29 سالہ اسد عمر اور 24 سالہ اہلیہ شامل ہیں۔

   سیاحتی علاقو ں میں لینڈ سلائڈنگ کا خطرہ  

 ایبٹ آباد، گلیات اور ٹھنڈیانی میں گہرے بادل چھا گئے  ، محکمہ موسمیات نے تیز بارشوں کی پیشگوئی کردی ، بارشوں کے باعث سیاحتی علاقو ں میں لینڈ سلائڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔  

   بورے والا میں طغیانی کے باعث بند ٹوٹ گیا
 دریائے سندھ میں تربیلا ،کالا باغ ، چشمہ اور تونسہ بیراج پر درمیانے درجے کےسیلاب  ہے، بورے والا میں طغیانی کے باعث بند ٹوٹ گیا، سیکڑوں بستیاں پانی کی لپیٹ میں آگئیں، پاکپتن کےقریب دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مزید  اضافہ ہو گیا۔

   گنڈا سنگھ کے مقام پر 80ہزار کیوسک کا ریلہ 
قصورکےقریب دریائے ستلج میں نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ بڑھنے لگا،  دریا ئے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر 80ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے ۔

 دریائے ستلج کے قریب علاقہ مکینوں کی نقل مکانی شروع

 قبولہ کے قریب دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب آگئیں۔ متعدد بستیاں زیر آب آگئیں، ریسکیو 1122 نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کردیا، دریائے ستلج کے قریب وسیع رقبے پر کاشت فصلیں سیلابی پانی میں ڈوب گئیں، دریا کے قریب علاقوں سے مکینوں نے نقل مکانی شروع کردی۔