ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاسداران انقلاب کی آبنائے ہرمز میں بھارتی آئل ٹینکرز پر فائرنگ؛ آبی گزرگاہ پھر بند

پاسداران انقلاب کی آبنائے ہرمز میں بھارتی آئل ٹینکرز پر فائرنگ؛ آبی گزرگاہ پھر بند
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : آبنائے ہرمز کھلنے کے محض 24 گھنٹوں بعد ہی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور ایران نے تیل کی اس اہم ترین آبی گزرگاہ کی دوبارہ بندش کا اشارہ دیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بین الاقوامی میری ٹائم سیکیورٹی ادارے نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی پاسداران انقلاب کی دو گن بوٹس نے ایک آئل ٹینکر پر فائرنگ کی ہے۔ یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنکے بقول فائرنگ کا یہ واقعہ آبنائے ہرمز عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 20 ناٹیکل میل کے فاصلے پر پیش آیا۔ آئل ٹینکر اور عملہ محفوظ ہیں، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔دوسری جانب شپنگ مانیٹرنگ گروپ ٹینکر ٹریکر نے دعویٰ کیا ہے کہ دو بحری جہازوں جن میں سے ایک بھارتی پرچم بردار سپر ٹینکر بھی شامل تھا کو ایرانی گن بوٹس نے نشانہ بنایا اور واپس جانے پر مجبور کیا۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دوسرا آئل ٹینکر بھی بھارت سے منسلک تھا اس طرح دو بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا۔

  بھارتی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ یہ دونوں جہاز بھارتی پرچم بردار تھے اور آبنائے ہرمز سے خام تیل لے کر جارہے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمارے تیل بردار بحری جہازوں کو ہفتے کے روز نشانہ بنایا گیا جس پر نئی دہلی میں تعینات ایران کے سفیر محمد فتح علی کو بھی طلب کیا گیا۔

 بھارتی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری وکرم مسری نے ایران کے سفیر محمد فتح علی کو اس واقعے پر حکومت کی شدید تشویش اور غم و غصے سے آگاہ کیا۔

 انھوں نے ایرانی سفیر سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ پیغام تہران کے متعلقہ حکام تک پہنچائیں اور آبنائے ہرمز سے بھارت جانے والے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو جلد از جلد بحال کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

پاسدارن انقلاب نے  کہا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب اُس وقت تک ایران کی مسلح افواج کے سخت انتظام اور کنٹرول کے تحت رہے گا جب تک کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کے لیے بحری جہازوں کی روانگی کی ناکہ بندی ختم نہیں کر دیتا۔

پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں امریکی افواج کی جانب سے ناکہ بندی کو بحری قزاقی اور غیرقانونی اقدام قرار دیا تھا۔