ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

15 ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی، پی ایم اے لاہور کا پی ایم ڈی سی سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

15 ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی، پی ایم اے لاہور کا پی ایم ڈی سی سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42:  پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) لاہور نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے 15 ڈاکٹروں کے میڈیکل لائسنس اور رجسٹریشن 6 ماہ کے لیے معطل کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

پی ایم اے لاہور کے مطابق پی ایم ڈی سی نے پنجاب حکومت کی سفارشات کی بنیاد پر ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی۔ ڈاکٹروں پر مریضوں کی دیکھ بھال میں خلل ڈالنے، سڑکیں بلاک کرنے، وارڈز اور ایمرجنسی سروسز بند کرنے اور سوشل میڈیا پر نامناسب بیانات پوسٹ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پی ایم اے لاہور کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کے احتجاج کے دوران مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے، تاہم اس معاملے میں کارروائی سے قبل جامع، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات ضروری تھیں۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ڈاکٹروں کے وضاحتی بیانات کو نظر انداز کرنا ان کے پیشہ ورانہ اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے اگر ڈاکٹروں نے احتجاج کیا تو اس کے پیچھے جائز مطالبات تھے، اس لیے ان مطالبات کو نظر انداز کرکے صرف ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرنا انصاف کے بجائے انتقامی اقدام کے مترادف ہے۔

پی ایم اے لاہور کے عہدیداروں نے پی ایم ڈی سی سے کارروائی فوری طور پر معطل کرنے اور آزاد کمیٹی کے ذریعے مکمل تحقیقات کا مطالبہ  کیا ہے اور کہا ہےکہ متاثرہ ڈاکٹروں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے، ان کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور انہیں حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

پی ایم اے لاہور نے مستقبل میں شفافیت اور انصاف یقینی بنانے اور یکطرفہ کارروائیوں سے گریز پر بھی زور دیا ہے۔ 

ایسوسی ایشن نے ڈاکٹروں سےبھی اپیل کی ہے کہ وہ آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے پرامن احتجاج کریں اور کسی بھی صورت مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔