سانحہ موٹروے، بشریٰ بی بی گرفتار، اہم انکشافات


مال روڈ (علی اکبر،عرفان ملک) سانحہ موٹروے میں بڑی پیش رفت، پولیس نے مرکزی ملزم عابد کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی، بشریٰ نے بتایا جب پولیس کی پہلی ریڈ ہوئی تو وہ برقعہ پہن کر فرار ہوئی اور کھیتوں میں چھپ گئی تھی۔

پولیس حکام  کے مطابق عابد کی گرفتاری کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جب  اس کے گھر پر پہلا چھاپہ مارا تو عابد اور اس کی بیوی گھر پر موجود تھے لیکن دونوں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جس کے بعد بشریٰ بی بی اپنے سسرال آگئی، جہاں پولیس نے گزشتہ رات چھاپہ مار کر  عابد کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا، خاتون کی ملزم عابد سے دوسری شادی تھی، ملزم عابد کی اہلیہ تحصیل تاندلیانوالہ ضلع فیصل آباد کی رہائشی ہے۔

پولیس نے ملزم کی بیوی بشری کا ابتدائی بیان ریکارڈ کرلیا، بشری بی بی نےانکشاف کیا کہ  واقعے کے بعد عابد کافی پریشان تھا، جب  شناخت ہوئی تو وہ فرار ہوگیا, کئی روز تک گھر نہ آنےپر پوچھتی تھی تو وہ تشدد کرتا تھا، عابد سے کوئی رابطہ نہیں۔

ذرائع کے مطابق   کیس کی تفتیش تبدیل کر کے انچارج انویسٹی گیشن پرانی انار کلی کو بھجوا دی گئی،  پولیس حکام کا کہنا  ہے کہ دہشت گردی دفعات کی تفتیش انسپکٹر کرسکتا ہے، سب انسپکٹر کے پاس اختیار نہیں، خاتون سے زیادتی کیس میں گرفتار ملزم شفقت اور فرار ملزم عابد کے ڈی این اے رپورٹ ریکارڈ کا حصہ بنا دیا، مرکزی ملزم کا شناختی کارڈ بھی بلاک کروادیا گیا تاکہ وہ بیرون ملک فرار نہ ہوسکے۔ متاثرہ خاتون کو بھی شناخت پریڈ کیلئے راضی کر لیا گیا ہے۔

 ذرائع کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم کی شناخت کیلئے خاتون کو جیل جانا پڑے گا، جہاں عدالتی عملے اور جیل حکام کی موجودگی میں شناخت پریڈ ہوگی، کیس کومنطقی انجام تک پہنچانے کے لیے شناخت پریڈ ضروری ہے۔ 

پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزم شفقت کی نشاندہی پرعابد کی گرفتاری کیلئے اب تک 66 چھاپے مارے جاچکے ہیں، مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کیلئے اب ٹیکنیکل ونگ بے سود ہوگیا، ملزم نے اپنا موبائل فون استعمال کرنا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے اب روایتی پولیسنگ کی جا رہی ہے، اسی کیس میں سی آئی اے پولیس نے5 مزید افراد کو گرفتار کرلیا ہےجبکہ عابد کی فیملی کے لوگ بھی سی آئی اے پولیس کی حراست میں ہیں۔

دوسری جانب مرکزی ملزم عابد علی کی گرفتاری میں تاخیر، پولیس نے ملبہ ملزم کی تصویر لیک ہونے پر ڈال دیا جبکہ وزیراعظم نے معاملہ کی مکمل انکوائری کا حکم دے دیا۔

وزیراعظم عمران خان کے دورہ لاہور کے موقع پر پنجاب حکومت اور آئی جی پنجاب کی جانب سے انہیں بتایا گیا کہ خاتون سے زیادتی کے ملزموں کی تصاویر سرکاری افسروں کی جانب سے لیک ہوئی جو   کیس پر اثر انداز ہوئیں۔

واضح رہےکہ 9 نومبر کی رات لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا  تھا، دو افراد نے موٹر وے پہ ایک گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور ان کے بچوں کو باہر نکالا جس کے بعد انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو بچوں کے سامنے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔