ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

یوروویژن2026 گلوکاری مقابلہ بلغاریہ نےجیت لیا، اسرائیل کی شرکت پر یورپی ممالک کا بائیکاٹ

یوروویژن2026 گلوکاری مقابلہ بلغاریہ نےجیت لیا، اسرائیل کی شرکت پر یورپی ممالک کا بائیکاٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  آسٹریا میں منعقد  ہونیوالا یوروویژن2026 کا گلوکاری کامقابلہ بلغاریہ نےجیت لیا ہے۔لیکن غزہ میں جاری نسل کشی کے دوران اسرائیل کی شرکت کے خلاف احتجاج، بائیکاٹ اور مظاہروں نے اس کی چمک ماند کردی۔5 یورپی ممالک ا سپین، سلووینیا، نیدرلینڈز، آئس لینڈ، اور آئرلینڈ نے اسرائیل کی شرکت کے خلاف احتجاجاً مقابلے کا بائیکاٹ کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یوروویژن گیت مقابلے کے70ویں ایڈیشن کا فائنل ویانا کے وینر اسٹاڈ ہالے ایرینا میں ہوا، جہاں بلغاریہ کی گلوکارہ دارا نے اپنے گانے’’بنگرنگا‘‘ کے ذریعےججوں اور ناظرین سے516 پوائنٹس حاصل کرکے پہلا مقام حاصل کیا۔جبکہ اسرائیل343پوائنٹس کے ساتھ دوسرے اور رومانیہ296 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ اس سے قبل پانچ ممالک ا سپین، سلووینیا، نیدرلینڈز، آئس لینڈ، اور آئرلینڈ نے اسرائیل کی شرکت کے خلاف احتجاجاً مقابلے کا بائیکاٹ کیا۔بعد ازاں اسرائیلی مدمقابل نوم بیتان، جس نے فائنل میں تیسرے نمبر پر پرفارم کیا، کو ایرینا کے اندر احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، جہاں سامعین نے اس کی پرفارمنس کے دوران فلسطینی جھنڈے لہرائے۔اس کے علاوہ جب اسرائیل کے پبلک ووٹ کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو بوز (ناراضگی کی آوازیں) بھی سنائی دیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل ایگنیس کالامارڈ نے نشریات کے دوران اسرائیل کی شرکت پر تنقید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’جب تک نسل کشی، غیر قانونی قبضہ اور ظلم جاری ہے، تب تک یوروویژن میں اسرائیل کے لیے کوئی اسٹیج نہیں ہونا چاہیے۔
  یوروویژن2026  کے فائنل سے  کئی گھنٹے قبل ایک ہزار سے زائد فلسطین حامی مظاہرین ویانا کے کرسچن بروڈا اسکوائر پر جمع ہوئے اور وینرا سٹاڈ ہالے کے مقام کی طرف مارچ کیا۔مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا،’’نسل کشی کا جشن نہ منائیں‘‘ اور ’’ اسرائیل، بچوں اورعورتوں کا قاتل،‘‘جبکہ وہ ’’ اسرائیل کا بائیکاٹ کرو‘‘ اور ’’نسل کشی کے لیے کوئی اسٹیج نہیں‘‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔بین الاقوامی کارکنوں، فنکاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے یوروپی براڈکاسٹنگ یونین (EBU) پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو مقابلے سے خارج کرے اوردیگر ممالک (بشمول آسٹریا) سے کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور فوجی تعاون ختم کریں۔

واضح رہے کہ اسی دوران  جمعہ کو ویانا کے ماریا تھریسین اسکوائر پر ایک علیحدہ کنسرٹ، گانے کا احتجاج نسل کشی کے لیے کوئی اسٹیج نہیں،منعقد ہوا، جس میں بین الاقوامی فنکاروں اور کارکنوں نے فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور اسرائیل کی شرکت پر EBU کے موقف پر تنقید کی۔ پہلے سیمی فائنل کے دوران، بیتان کو بھی سامعین جنہوں نے ’’نسل کشی روکو‘‘ کے نعرے لگائے اور فلسطینی جھنڈے دکھائے  کی طرف سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ مظاہرین جن پر ’’ آزاد فلسطین‘‘ کے نعرے لکھے تھے، کو سیکیورٹی اہلکاروں نے مقام سے نکال دیا۔ہسپانوی پبلک براڈکاسٹر RTVE نے نشریات کے آغاز پر ’’فلسطین کے لیے امن اور انصاف‘‘ کی حمایت میں ایک پیغام نشر کیا، جس میں اس نے اپنی اسکرین کو عارضی طور پر سیاہ کرکے یہ پیغام ہسپانوی اور انگریزی میں دکھایا۔بیلجیم کے فلیمش پبلک براڈکاسٹر VRT نے بھی خبردار کیا کہ جب تک EBU یوروویژن میں حصہ لینے والے ممالک کے بارے میں اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتا، وہ مستقبل میں شرکت پر دوبارہ غور کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ مقابلے میں کئی ممالک میں ٹیلی ویژن کی درجہ بندی (ریٹنگز) بھی کم دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ بائیکاٹ کی اپیل اور اسرائیل کی شرکت پر تنقید تھی۔اٹلی میں  پبلک براڈکاسٹر RAI پر پہلا سیمی فائنل ایک اعشاریہ87 ملین ناظرین نے دیکھا، جو گزشتہ سال2اعشاری489ملین سے کافی کم تھا۔نیدرلینڈز میں، سیمی فائنل کے ناظرین کی تعداد 2025کے مقابلے میں41فیصد کم ہوگئی، جو2012 کے بعد ملک کا سب سے کم دیکھا جانے والا یوروویژن سیمی فائنل بن گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ، سویڈن اور بیلجیم میں بھی ناظرین کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہوئی۔