لاہور سمیت صوبہ بھر میں ججز کیلئے عدالتیں کم پڑگئیں

لاہور سمیت صوبہ بھر میں ججز کیلئے عدالتیں کم پڑگئیں

(ملک اشرف) لاہور سمیت صوبہ بھر میں ججز کے لیے عدالتیں کم پڑگئیں، سرکاری رہائش گاہوں کا بھی فقدان، ضلعی عدالتوں اور سپیشل کورٹس کے ججز سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث پریشان ہیں۔

  لاہور میں مناسب کورٹ رومز اور سرکاری رہائش گاہیں میسر نہ ہونے کے باعث ضلعی اور خصوصی عدالتوں کے ججز کو مشکلات کا سامنا ہے، جوڈیشل افسران کو مناسب انفراسٹرکچر میسر نہ ہونے کے باعث بروقت انصاف کا عمل بھی سست روی کا شکار ہے، کئی ججز اہلمدوں کے کمروں میں عدالتیں لگانے پر مجبور ہیں، جبکہ ایوان عدل کے قریب ایل ڈی اے کمپلیکس کی کمرہ عدالتوں کے لیے کرایہ پر لی گئی چھ منزلہ عمارت میں واش روم سمیت دیگر سہولتوں کا فقدان ہے۔

 صارف عدالت، لیبر کورٹس سمیت کئی خصوصی عدالتیں کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں، خصوصی عدالتوں میں تعینات سیشن ججز بھی سرکاری رہائش گاہوں سےمحروم ہیں، صرف سیشن جج لاہور کو جی او آر ون میں سرکاری رہائش گاہ میسر ہے، اس وقت لاہور میں تعینات اڑھائی سو سے زائد جوڈیشل افسران سرکاری رہائش گاہیں نہ ہونے کے باعث کرائے کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

 ایک جوڈیشل افسر نے سٹی 42 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ججز، وکلاء، پولیس اور صحافیوں کو کوئی کرائے پر گھر دینے کو بھی تیار نہیں ہوتا، ججز کا تنخواہ میں سے کم ازکم چالیس سے پچاس ہزار روپے میں گھر کرایہ پر لینا مجبوری بن چکا ہے، اس لیے کوئی بھی جج لاہور میں تعیناتی کو تیار نہیں ہوتا، کسی بھی حکومت یا مجاز اتھارٹی نے ججز کے لیے مناسب کورٹ روم اور سرکاری رہائش گاہوں پر توجہ نہیں دی۔

دوسری جانب پنجاب میں وفاق کے زیر انتظام خصوصی عدالتوں میں 2 ماہ بعد بھی ججز تعیناتیاں نہ ہو سکیں، لاہور میں 7 خصوصی عدالتیں مارچ سے ججز سے محروم ہیں، 2 احتساب عدالتیں بھی شامل ہیں، لاہور کی ججز سے محروم 2 احتساب عدالتوں میں ہائی پروفائل کیسز التواء کا شکار ہیں۔