سٹی42: لاہورہائیکورٹ نے بھی ریپ سے پیدا ہونے والے بچوں کی کفالت کا ذمہ دار ریپسٹ کو قرار دے دیا۔ اس سے پہلے سول کورٹ یہ فیصلہ دے چکی ہے۔
لاہورہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے ٹرائل کورٹ کےفیصلے کے خلاف محمد افضل کی درخواست پر تحریری حکم جاری کیا جس میں عدالت نے قراردیا کہ جو شخص بچی کے پیداہونے کا ذمہ دار ہے، وہی اس کے اخراجات کا بھی ذمہ دار ہے۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق "بائیولوجیکل باپ" کی "اخلاقی" ذمہ داری بھی یہی ہے کہ وہ اپنےناجائزبچے کی پرورش کے اخراجات کی ذمہ داری اٹھائے۔
ہائیکورٹ نے پانچ سالہ بچی کے خرچے سے متعلق کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کردیا اور ہدایت کی کہ ٹرائل کورٹ شواہد کی روشنی میں دوبارہ فیصلہ کرے۔
عدالت نے تمام فریقین کو ٹرائل کورٹ کےروبروپیش کرنے کی ہدایت کی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈکے مطابق 2020 میں درخواست گزار نے خاتون مریم کو ریپ کیا۔ درخواست گزار کے خلاف ریپ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
اس ریپ کے نتیجے میں خاتون نے بیٹی کو جنم دیا اور بچی کے خرچے کیلئے بائیولوجیکل باپ پر دعویٰ دائرکیا۔ ٹرائل کورٹ نے خاتون کا دعویٰ تسلیم کرتے ہوئے بچی کا 3 ہزار روپیہ ماہانہ خرچہ مقرر کیا تھا۔ بچی کا بایوجیکل باپ محمد افضل بچے کے اخراجات ادا کرنے کی بجائے ہائی کورٹ کے وکیل کی فیس ادا کرنے کی طرف چلا گیا اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کےخلاف ہائیکورٹ آ گیا تھا۔