ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران کیساتھ معاہدہ اتوار تک ہو جائیگا، مشرق وسطی میں امن آئیگا ، صدر ٹرمپ کا اعلان

ایران کیساتھ معاہدہ اتوار تک ہو جائیگا، مشرق وسطی میں امن آئیگا ، صدر ٹرمپ کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار تک ہو جائے گا اور انہیں 99 فیصد یقین ہے کہ معاہدے کے بعد ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کریگا،ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روک رہا ہے اور اگر یہ ڈیل نہ ہوتی تو آبنائے ہرمز نہ کھلتی جبکہ بمباری ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہتی۔ ایران کے پڑوسی ممالک ایران میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ، امریکا ایران کی تعمیر نو میں سرمایہ نہیں لگائے گا ، امید ہے معاہدے سے پورے مشرق وسطی میں امن آئے گا ۔

 انہوں نے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کھول رہے ہیں اگر معاہدہ نہ کیا ہوتا تو آبنائے ہرمز بند رہتی اور بم مسلسل گرتے رہتے، ان کے مطابق معاہدے کے بعد تیل کی قیمتیں نیچے آگئی ہیں جبکہ خبر سامنے آنے کے بعد  سٹاک مارکیٹیں بھی اوپر گئی ہیں۔

 امریکی صدر نے کامیاب جی7 سمٹ پر تمام شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جی سیون ممالک ایران کے ساتھ معاہدے پر خوش ہیں اور اس حوالے سے سمٹ میں تفصیلی بات چیت ہوئی۔

 ٹرمپ نے کہا کہ ایک ملک نے ہمارے پاس آکر کہا کہ بمباری کرتے ہیں  تاہم یہ بات کہنے والے بے وقوف لوگ ہیں،انہوں نے دعویٰ کیا کہ آخری دو دنوں میں امریکا نے 200 ملین ڈالر کے بم گرائے،انہوں نے کہا کہ ایران کے نئے لیڈرز بہت کم بنیاد پرست ہیں، نئی ایرانی قیادت سمارٹ ہے اور لگتا ہے کہ ان کا رویہ پہلے سے مختلف ہوگا،ان کے بقول انہیں یقین ہے کہ ایرانی رہنما مستقبل میں بالکل مختلف طریقے سے کام کریں گے۔

 ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران میں نظام کی تبدیلی امریکا کا ہدف کبھی نہیں تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ تباہ ہو چکی ہے،امریکی صدر نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہتی تو 1929 کی طرح عالمی کساد بازاری پیدا ہو سکتی تھی،انہوں نے مزید کہا کہ وہ دنیا میں معاشی تباہی نہیں چاہتے۔

 ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ قاسم سلیمانی بہت تیز تھے اور ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا،انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی ایران ڈیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدہ ایران کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانے کا راستہ تھا۔

 انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو مایوس ہوئے جبکہ لبنان کے معاملے پر بھی ان کا نیتن یاہو سے اختلاف ہے،ٹرمپ نے کہا کہ خلیجی ممالک کو توقع نہیں تھی کہ ان پر حملہ ہو سکتا ہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا دنیا کی سب سے طاقتور قوت ہے، اس کے بعد روس اور چین کا نمبر آتا ہے۔

 امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کے ایٹمی ہتھیار اگر استعمال ہوں تو دنیا 300 مرتبہ تباہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی ایک کاپی اسرائیل کو بھی بھیجی گئی ہے۔

 ’’ایران معاہدے میں پاکستان اور قطر کا خصوصی کردارہےوزیراعظم پاکستان نے پہلے ہی اشارہ دیا تھا‘‘
 ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ متوقع معاہدے کے حوالے سے پاکستان اور قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے،انہوں نے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے میں پاکستان اور قطر نے مذاکرات کے لیے بہت کام کیا اور ان کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں،پاکستان کے وزیراعظم نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ ایک بڑا کام کرنے جا رہے ہیں  تاہم اس وقت بہت کم لوگوں کو اس پر یقین تھا۔

 امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران اس بات پر رضامند ہو گیا ہے کہ وہ نہ ایٹمی بم بنائے گا اور نہ ہی اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، ان کے مطابق مجوزہ معاہدہ ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے راستے میں ایک مضبوط دیوار ثابت ہوگا،امریکا ایران کو معاہدے کے بدلے کوئی رقم یا فنڈ فراہم نہیں کرے گا،انہوں نے مزید کہا کہ سیٹلائٹ کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات اور ذخائر کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور امریکا ایران کے جوہری مواد کا سراغ لگا لے گا۔

 امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صحرا میں دو ڈرون گرائے جانے پر بیروت میں عمارتیں اڑانا درست نہیں،انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ بہتر برتاؤ کرے۔

 ٹرمپ نے ایک بار پھر اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران معاہدے کی شرائط پر عمل کرے گا اور ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوئی کوشش نہیں کرے گا۔

 صدر  ٹرمپ نےکہا کہ ایران کے پڑوسی ممالک ایران میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ، امریکا ایران کی تعمیر نو میں سرمایہ نہیں لگائے گا ، امید ہے معاہدے سے پورے مشرق وسطی میں امن آئے گا ، ایران کو سرمایہ کاروں کی ضرورت ہے ، ہوسکتا ہے ایران میں دو ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہو ، ابراہم اکارڈ کو توسیع دینا چاہتے ہیں جنگ کےباوجود کئی ملک ابراہیم اکارڈ سے الگ نہیں ہوا،