ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیل میں امریکی سفیر نےنیا تنازع کھڑا کر دیا، امریکی وجود کو چیلنچ کر دیا

اسرائیل میں امریکی سفیر نےنیا تنازع کھڑا کر دیا، امریکی وجود کو چیلنچ کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) اسرائیل میں امریکی سفیر مائک ہکابی نےنیا تنازع کھڑا کر دیا، ایک بیان میں انہوں نے کہ امریکہ کا اپنا وجود اسرائیل کا مرہون منت ہے، ان کا یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس موقف سے یکسر مختلف ہے کہ اسرائیل کا وجود امریکی امداد پر منحصر ہے۔
 غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی سفیر مائیک ہکابی نے یہ کہہ کر تنازع کھڑا کر دیا ہے کہ امریکہ کا اپنا وجود اسرائیل کا مرہون منت ہے، یہ دعویٰ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بالکل برعکس ہے جنہوں نے اس کے برعکس کہا تھا۔ اسرائیل میں گفتگو کرتے ہوئے ہکابی نے کہا کہ’’یہودی بنیادوں کے بغیر امریکہ وجود میں نہ آتا‘‘ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’ امریکہ کا اپنا پورا وجود اس سرزمین میں ہونے والے واقعات کے مرہون منت ہیں‘‘۔واضح رہے کہ یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے جب ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو عوامی طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسرائیل کیلئے امریکی امداد کی حد پر زور دیا ۔  بعد ازاں ہکابی کے دعوے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے موقف سے براہِ راست متصادم ہیں، جنہوں نے حال ہی میں اسرائیل کی بقا کا سارا سہراخود کو دیا۔

واضح رہے کہ فرانس میں سالانہ جی 7سمٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اسرائیلی قیادت کی سخت عوامی سرزنش کی۔ٹرمپ نے کہا،’’امریکہ کے بغیر اسرائیل نہ ہوتا۔ میرے بغیر اسرائیل نہ ہوتا کیونکہ کوئی دوسرا صدر وہ کام کرنے کو تیار نہیں تھا جو میں نے کیا‘‘۔یہ باہمی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ جمعہ کو جنیوا میں طے شدہ دستخطی تقریب سے قبل تہران کے ساتھ ایک تاریخی امن معاہدہ حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو کھل کر للکارا ہے، ان کے فیصلے کوپاگل پن قرار دیا ہے اور لبنان میں حالیہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تنقید کی ہے جن سے واشنگٹن-تہران مذاکرات کو خطرہ لاحق تھا۔ٹرمپ نے خبردار کیا، آپ کو ہر بار جب کسی ایک شخص کو ہدف بنانا ہو تو ایک پوری عمارت کو گرانے کی ضرورت نہیں‘‘۔

قابل ذکر بات یہ ہےکہ اپریل2025میں تصدیق شدہ مائیک ہکابی جو ایک بپٹسٹ مسیحی مبلغ اور سابق آرکنساس گورنر ہیں، کو مسلسل اس بات پر تنقید کا سامنا ہے کہ وہ امریکی مفادات پر اسرائیلی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ صحافی ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک معروف قدامت پسند انٹرویو میں سفیر نے بار بار دائیں بازو کے اسرائیلی نکات کو دہرایا، مقبوضہ مغربی کنارے کو بیان کرنے کے لیے ’’یہودیہ اور سامریہ‘‘کی اصطلاحات استعمال کیں اور اسرائیل کے توسیعی علاقائی عزائم کی توثیق کی۔سفیر نے اسرائیلی فوجی جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے اپنے ہی ملک کی مسلح افواج پر براہِ راست حملہ بھی کیا۔جب شہری ہلاکتوں پر سوال اٹھایا گیا تو ہکابی نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج عراق اور افغانستان کی جنگوں کے دوران امریکی فوج کے مقابلے میں شہری جانوں کے تحفظ میں زیادہ محتاط ہے۔