شام میں حکومتی فورسز اور دروز قبائل کے درمیان جنگ بندی ہوگئی۔
گزشتہ چند روز سے دروز کمیونتی کے علاقوں مین شام کی نئی حکومت کی فوج اور مقامی دروز کمیونٹی کے درمیان خونریز جنگ ہو رہی تھی۔ دروز کمیونٹی کے علاقے شامی فوج کے حملوں کی زد میں تھے، سویدا میں سب سے زیادہ سنگین صورتحال تھی۔
اس جنگ کے دوران اسرائیل کی فوج نے دروز کمیونٹی کی مدد کرتے ہوئے شام کی حکومتی فوج پر حملے کئے تھے۔
آج دمشق سے آنے والی بریکنگ خبروں میں بتایا گیا کہ حکومتی فورس اور دروز کمیونٹی کے درمیان سویدا مین جنگ بندی کا معاہدہ ہو گیا ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ دروز کی اکثریت والے شہر سویدا میں جنگ بندی ہو گئی ہے۔
دمشق ست شامی حکومت کے زیر اثر سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق حکومتی فورسز علاقے میں چوکیاں قائم کریں گی۔
شام میں دروز کمیونٹی کے لیڈروں میں سے ایک شیخ یوسف جربوع عرب میڈیا کی طرف سے شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں جنگ بندی کی شرائط کا اعلان کر رہے ہیں۔
شیخ یوسف جربوع نے اس ویدیو بیان میں کہا کہ علاقے کی سڑکوں کو ریاستی فورسز محفوظ بنائیں گی۔
دروز کمیونٹی کے شہر سویدا میں ریاستی ادارے دوبارہ کام شروع کریں گے (شیخ یوسف بظاہر ان اداروں کا حوالہ دے رہے تھے جو پہلے صدر بشار الاسد کے دور میں سویدا شہر مین بھی کام کر رہےتھے۔ ، دروز اور حکومت کی ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے گی تاکہ علاقے کو "پیش آنے والے تمام واقعات کے دوران جرائم اور قانونی خلاف ورزیوں" کی تحقیقات کے لیے جاری کیا جائے گا۔