ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماء اعجاز چوہدری کی سانحہ 9 مئی کے 4 مقدمات کے علاؤہ دیگر مقدمات میں درخواست ضمانتوں کی منظوری کے متعلق رپورٹ طلب کرلی ،عدالت نے اعجاز چوہدری کے شریک ملزمان کی منظور والی ضمانتوں کے چیلنج ہونے کے متعلق بھی تفصیل طلب کرلی۔
جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس سلطان محمود پر مشتمل دورکنی بنچ نے اعجاز چوہدری کی درخواست ضمانتوں پر سماعت کی ،ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل رانا محمد شفیق پیش ہوئے ، جسٹس سید شہباز علی رضوی نے استفسار کیا کہ ملزم کے خلاف ان چار مقدمات کے علاؤہ کتنے مقدمات ہیں ، ڈہٹی پراسیکیوٹر جنرل نے جواب دیا اعجاز چوہدری کے خلاف ان چار مقدمات کے علاؤہ مذید دس مقدمات بھی ہیں ، جسٹس سید شہباز علی رضوی نے استفسار کیا اعجاز چوہدری کتنے مقدمات میں ضمانت پر ہیں ، کتنوں میں ضمانتیں خارج ہیں ، اعجاز چوہدری کے وکیل نے جواب دیا کہ تین مقدمات میں ضمانت ہوچکی ہیں ، کئی درخواست ضمانتیں واپس لی لی تھیں ، جسٹس سید شہباز علی رضوی نے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا اعجاز چوہدری کی دیگر مقدمات میں درخواست ضمانتوں کی منظوری کے متعلق تفصیل دی جائے ، ملزم کے شریک ملزمان کی جو درخواست ضمانتیں منظور ہوئی ہیں اگر وہ چیلنج ہوئی ہیں ، اس کی بھی تفصیل دی جائے ، دو رکنی بنچ نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی ،انسدادِ دہشت گردی کورٹ سے ضمانتیں خارج ہونے کے بعد اعجاز چوہدری نے 5 جون 2025 کو ہائیکورٹ سے رجوع کیا ،،اعجاز چوہدری کے خلاف تھانہ سرور روڈ ، تھانہ گلبرگ سمیت دیگر تھانوں نے مقدمات درج کررکھے ہیں۔