ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پتنگ بازی کی اجازت دینے کے قانون کیخلاف درخواست 22 جنوری کو سماعت کے لیے مقرر

پتنگ بازی کی اجازت دینے کے قانون کیخلاف درخواست 22 جنوری کو سماعت کے لیے مقرر
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے شہریوں کو پتنگ بازی کی اجازت دینے کے قانون کے خلاف دائر درخواست 22 جنوری کو سماعت کے لیے مقرر کر دی، رجسٹرار آفس نے کیس کی سماعت کے متعلق کاز لسٹ جاری کر دی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک محمد اویس خالد،جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کریں گے ،عدالت پہلے ہی اس معاملے میں وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین سے جواب طلب کر چکی ہے۔درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پتنگ بازی کی اجازت دینے سے متعلق بنایا گیا قانون عوامی تحفظ، انسانی جانوں اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ماضی میں پتنگ بازی کے دوران دھاتی ڈور اور دیگر خطرناک آلات کے استعمال کے باعث متعدد قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ شہریوں کو شدید زخمی ہونے کے واقعات بھی پیش آئے۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے، جبکہ پتنگ بازی کی اجازت دے کر حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پتنگ بازی کی اجازت دینے کے قانون کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دیا جائے، کیونکہ یہ قانون آئین کے آرٹیکل 9 (حقِ زندگی) اور آرٹیکل 14 (انسانی وقار) کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔درخواست میں پنجاب حکومت، ہوم سیکرٹری پنجاب، ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر متعلقہ اداروں اور افسران کو فریق بنایا گیا ہے۔

Ansa Awais

Content Writer