ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ماہِ صیام سے قبل سرکاری نرخ نامہ صرف کاغذوں تک محدود, عوام پریشان

ماہِ صیام سے قبل سرکاری نرخ نامہ صرف کاغذوں تک محدود, عوام پریشان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: حکومتِ سندھ نے رمضان المبارک کے لیے اشیائے ضروریہ کی سرکاری قیمتیں مقرر کر دی ہیں، تاہم بازاروں میں پہلے ہی روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہو چکی ہیں۔ شہری انتظامیہ نے نرخ نامے تو جاری کر دیے ہیں لیکن مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی دکھائی نہیں دے رہی۔ 

 میڈیا رپورٹس کے مطابق زیادہ تر دکاندار، خصوصاً پھل فروش، سرکاری قیمتوں کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں صارفین کو کئی اشیا سرکاری نرخ سے دگنی قیمت پر خریدنا پڑتی ہیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا تعین چیئرمین کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن رؤف ابراہیم، سبزی و فروٹ فروش نمائندگان، کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل کے چیئرمین شکیل بیگ، ڈپٹی کمشنرز، بیورو آف سپلائی اور محکمہ خوراک کے اعلیٰ حکام سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی رمضان سے قبل گوشت فروشوں نے قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ بون لیس بچھڑے کے گوشت کی سابقہ قیمت 1600 روپے فی کلو تھی جبکہ موجودہ مارکیٹ قیمت 1700 تا 1800 روپے فی کلو ہے، تاہم اس کی سرکاری مقررہ قیمت 1600 روپے فی کلو رکھی گئی ہے۔ ہڈی والے بچھڑے کے گوشت کی سرکاری قیمت 1300 روپے فی کلو ہے جبکہ مارکیٹ میں یہ 1400 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ مٹن کی سرکاری قیمت 2200 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے جبکہ مارکیٹ میں یہ 2400 تا 2600 روپے فی کلو دستیاب ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامہ صرف کاغذوں تک محدود ہے جبکہ عملی طور پر مہنگے دام وصول کیے جا رہے ہیں۔

انتظامیہ نے روٹی اور نان کی قیمتیں بھی مقرر کی ہیں جن کے مطابق 100 گرام چپاتی 14 روپے، 120 گرام تندوری نان 18 روپے، 140 تا 150 گرام نان 21 روپے اور 180 گرام نان 27 روپے میں فروخت ہونا چاہیے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ چپاتی 15 روپے جبکہ تندوری نان 25 تا 30 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اکثر تندوروں پر وزن اور قیمت واضح طور پر درج نہیں، جس کی وجہ سے صارفین کو اصل وزن کا علم بھی نہیں ہوتا۔

6 فروری 2026 کو کمشنر کراچی کی ویب سائٹ کے مطابق آٹا نمبر 2.5 کی سرکاری قیمت 107 روپے فی کلو، میدہ 115 روپے فی کلو اور چکی کا آٹا 130 روپے فی کلو مقرر کیا گیا تھا، مگر مارکیٹ میں آٹا نمبر 2.5، 130 روپے، میدہ 140 روپے اور چکی کا آٹا 150 تا 160 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح 14 فروری کو چینی کی سرکاری قیمت 138 روپے مقرر کی گئی، جبکہ مارکیٹ میں یہ 145 تا 160 روپے فی کلو دستیاب ہے۔

دالوں اور دیگر کریانہ اشیا میں ماش دھلی نمبر 1 کی سرکاری قیمت 420 روپے، چنا دال نمبر 1 کی 230 روپے، کابلی چنا 8 ملی میٹر کی 325 روپے، کالا چنا نمبر 1 کی 215 روپے اور بیسن کی 230 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، جبکہ مارکیٹ میں بیسن 280 تا 400 روپے، کالا چنا تقریباً 300 روپے، کابلی چنا تقریباً 400 روپے اور ماش 420 تا 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ اعلیٰ معیار کے 60 گرام آلو سموسے کی قیمت 40 روپے اور 35 گرام قیمہ سموسہ 40 روپے مقرر ہے، پکوڑا مکس 640 روپے فی کلو، جلیبی 580 روپے فی کلو اور پھینی و خاجہ 845 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔

کمشنر آفس کے مطابق مختلف اجلاسوں میں تاجروں اور متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد قیمتیں مقرر کی گئیں اور کمشنر سید حسن نقوی نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ رمضان کے دوران سرکاری نرخوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ سپر اسٹورز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رمضان کاؤنٹر قائم کریں تاکہ معیاری اشیا مناسب نرخوں پر دستیاب ہوں، جبکہ فرائض میں غفلت برتنے والے افسران سے وضاحت طلب کی جائے گی۔ دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال رمضان سے قبل مہنگائی بڑھ جاتی ہے اور سرکاری نرخ نامے مؤثر ثابت نہیں ہوتے، اس لیے صرف فہرستیں جاری کرنے کے بجائے عملی کارروائی کی جائے تاکہ منافع خوروں کے خلاف سخت اقدامات ہوں اور عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔