سٹی42 : یو کرین جنگ بندی میں امریکہ ، سعودی عرب کی کوششوں کے دوران یوکرائن صدر کا اہم فیصلہ سامنے آگیا ، یوکرائن صدر نے کہا ایسے امن معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جس میں یوکرین شامل نہ ہو. اس اہم ڈیویلپمنٹ کو سینئیر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری نے چینل 24 ایچ ڈی پر اپنے تازہ ترین شو مین ڈسکس کیا ہے۔
سلیم بخاری نے بتایا کہ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جرمنی میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے بعد بیان دیا کہ یوکرین کو مذاکرات میں مدعو نہیں کیا گیا اور وہ روس سے کسی بھی بات چیت سے پہلے اپنے اسٹریٹیجک اتحادیوں سے مشورہ کریں گے۔
سلیم بخاری نے بتایا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز اور وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف سعودی عرب جائیں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ روسی وفد میں کون شامل ہوگا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یوکرین جنگ کو جلد ختم کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ لیکن یورپی ممالک اس خدشے میں مبتلا ہیں کہ انہیں کسی ممکنہ "امن معاہدے "سے باہر رکھا جا سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ روبینو نے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے بات چیت کی، اور دونوں نے ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان ملاقات کی تیاری کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی کی ہدایت پر یوکرین کے متعلقہ اہلکار امریکہ اور یوکرین کے مابین قدرتی وسائل کے معاہدے پر بھی بات چیت کر رہے ہیں، جس کے تحت امریکہ یوکرین کے 50 فیصد قیمتی معدنی ذخائر پر سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔
امریکہ کے ساتھ تعاون کا رویہ برقرار رکھنے کے باوجود روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والی یوکرین جنگ بندی کی بات چیت کے متعلق صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں یوکرین کے لیے مطلوبہ سیکیورٹی تحفظات شامل نہیں۔ روس کا مطالبہ ہے کہ یوکرین نیوٹرل ہو جائے اور کچھ علاقے روس کے حوالے کر دے جبکہ یوکرین کا مؤقف ہے کہ روس مکمل انخلا کرے اور" نیٹو کی سیکیورٹی گارنٹی" فراہم کی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین کو شامل کیے بغیر مذاکرات کیے گئے تو یہ مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں اور یورپی ممالک کی ناراضی کا سبب بن سکتے ہیں۔
ریاض یوکرین پر ڈپلومیسی کا مرکز
سلیم بخاری نے بتایا، یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے روس سے مذاکرات سے قبل امریکی وزیر خارجہ کی سعودی عرب آمد ہوئی ،امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو پیر کو سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ ان کی آمد روسی حکام کے ساتھ متوقع مذاکرات سے قبل ہوئی ہے جن کا مقصد یوکرین میں ماسکو کی تقریباً تین سال سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔ریاض نے 20 جنوری کو اقتدار سنبھالنے والی ٹرمپ انتظامیہ اور ماسکو کے درمیان ابتدائی روابط میں کردار ادا کیا ہے جس سے گذشتہ ہفتے قیدیوں کے تبادلے کو محفوظ بنانے میں مدد ملی۔ذرائع نے خبر دی ہے کہ یہ مذاکرات منگل کو سعودی دارالحکومت ریاض میں ہوں گے۔یہ روسی اور امریکی حکام کے درمیان برسوں میں پہلی مرتبہ اعلیٰ سطحی ذاتی مذاکرات ہوں گے اور یہ امریکی اور روسی صدور کے درمیان ملاقات سے قبل ہوں گے۔روبیو نے اتوار کو کہا کہ آئندہ ہفتوں اور دنوں میں اس بات کا تعین ہو جائے گا کہ آیا پوٹن امن قائم کرنے میں سنجیدہ ہیں یا نہیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی بھی اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں۔ اتوار کو متحدہ عرب امارات پہنچنے والے زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب اور ترکی کا بھی دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا روسی یا امریکی حکام سے ملاقات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور ان کا خیال ہے کہ سعودی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں یوکرین کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔
سعودی عرب نے دیگر عرب ممالک کے ہمراہ کسی بھی ایسے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں فلسطینیوں کی کہیں اور آباد کاری شامل ہو ۔ سلیم بخاری نے بتایا، ریاض جوابی تجویز تیار کرنے کے لیے عرب کوششوں کی قیادت کر رہا ہے۔محمد بن سلمان نے یہ بھی اصرار کیا ہے کہ سعودی عرب فلسطینی ریاست قائم کرنے کے کسی معاہدے کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائے گا ، جو واشنگٹن کا ایک دیرینہ مقصد ہے۔۔
کیا زیلنسکی روس امریکہ مان معاہدہ کو مانیں گے
سلیم بخاری نے بتایا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران اپنے ملک میں جنگ ختم کرنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ شراکت داری میں اپنے وژن کا خاکہ پیش کیا اورواضح کیا کہ وہ کبھی بھی امریکہ اور روس کے درمیان کسی ایسے امن معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جس میں یوکرین شامل نہ ہو۔ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں کبھی بھی امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین کے بارے میں کیے گئے کسی بھی فیصلے کو قبول نہیں کروں گا، یہ جنگ یوکرین کے خلاف ہے، اور ہمارے انسانی نقصان کا معاملہ ہے۔انٹرویو کے دوران زیلنسکی نےکہا کہ واضح کیا جائے ٹرمپ جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں، نیٹو کے مستقبل کے بارے میں ان کے خیالات کیا ہیں اور روس یوکرین سے باہر دیگر ممالک کے لیے کس طرح خطرہ بن سکتا ہے۔ زیلنسکی نے کہا، اگر ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے آمنے سامنے ملاقات ہوتی تو وہ انہیں کیا کہتے ہیں۔ مذاکرات کی میز پر امریکا، یورپ اور یوکرین کو شامل کرنا چاہیے، سیکیورٹی ضمانت نہ ہونے تک امریکا سے اقتصادی معاہدہ نہیں ہوسکتا۔ یوکرینی معدنیات تک امریکہ کو رسائی دینے کا معاہدہ بھی نہیں ہوسکتا،یوکرینی معدنیات تک رسائی کے معاہدے سے صرف امریکہ کو فائدہ ہوگا۔