ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکہ کا غزہ پر قبضے کا خواب،مسلم دنیا کی خاموشی کس طرف اشارہ کررہی

امریکہ کا غزہ پر قبضے کا خواب،مسلم دنیا کی خاموشی کس طرف اشارہ کررہی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک : غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے بعد امریکہ قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے جبکہ مسلم دنیا  غزہ حملوں  کے وقت بھی بیان بازی تک محدود رہی اور اب بھی مسلم دنیا بیان بازی  تک محدود  ہے

 فلسطین کے وزیرِ خزانہ نے امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امن کے منصوبے کے اقتصادی حصے کو غیر حقیقی اور ایک خواب و خیال قرار دیا ہے۔وزیرِ خزانہ شُکری بشارا نے کہا ہے کہ فلسطینی خطے میں امن چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے ملک کی تعمیر کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو بحرین میں ہونے والی کانفرنس میں اربوں ڈالرز کے منصوبوں پر بات چیت کی ضرورت نہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت بحرین میں ہونے والی کانفرنس میں فلسطین اور اس کے عرب ہمسایہ ممالک کے لیے 50 ارب ڈالرز کی مالیت کے ایک اقتصادی ترقی کے منصوبے کا اعلان کرنے جا رہے  ہیں اس تجویز کا عرب ممالک میں خیر مقدم نہیں کیا گیا ہے البتہ خلیجی بادشاہتوں اور امارتوں میں اس کا خاموش قسم کا خیر مقدم ہوتا نظر آرہا ہے۔غزہ پر مسلم دنیا کی صرف بیان بازی ہے جبکہ فلسطینیوں کے لیے آزاد وطن ایک خواب بنتا جا رہا ہے ۔

غزہ جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ پیچیدہ ہے مگرشروع ہونے والا ہے ، دوسری جانب اسرائیلی کی سیکیورٹی کابینہ آج غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر غور کررہی ہے ، پہلے مرحلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اسرائیلی وفد قاہرہ جائے گا۔صدر ٹرمپ کے غزہ پر جابرانہ قبضے کے اعلان پر اقوام متحدہ اور دنیا کے کئی ممالک نے غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی کی مخالفت کرکے دو ریاستی حل پر زور دیا تھا۔ اگر ٹرمپ کا شیطانی منصوبہ جو تعمیر کی آڑ میں تخریب کاری کے سوا کچھ بھی نہیں ،کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف یہ کہ مظلوم اہل فلسطین غزہ سے  ہی نہیں بلکہ فلسطین سے ہی ہاتھ دھو بیٹھیں گے

ٹرمپ کے غزہ سے فلسطینیوں کی بےدخلی منصوبے کے خلاف لندن میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مارچ کیا۔فلسطینی پرچم لہراتے ہزاروں لوگوں نے امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کیا جبکہ مظاہرین نے امریکی صدر اور اسرائیل کے خلاف قبضہ نہیں آزادی، غزہ برائے فروخت نہیں، نسلی صفائی نامنظور کے نعرے لگائے۔ 

رضا ربانی نے کہا مسلم دنیا نے فلسطین پر باتیں تو بہت کیں لیکن عملی کچھ نہیں کیا، فلسطینیوں سے ان کی سرزمین لینا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔

اسرائیل  کی نظریں ایران کے جوہری  پروگرام پر  ہیں جس پر ایران نے بھی ردعمل دکھاتے ہوئے امریکا اور اسرائیکل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہرصورت اپنے ایٹمی پروگرام کا دفاع کرینگے‘،  ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام جاری ہے اور یہ تین دہائیوں سے پرامن ہے۔این پی ٹی ممبر ہونے کی بنیاد پر ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ایٹمی پروگرام پر کوئی کمزوری نہیں دکھائے گا۔

کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  نیتن یاہو نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دورہ اسرائیل کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات پچھلی انتظامیہ کے مقابلے میں بہت بہتر ہیں۔نیتن یاہو نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعاون کی اہمیت اور اس "تاریخی موقع" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں اسرائیل اپنے قیام کے بعد سے کبھی نہیں رہا ہے۔ ایسا کوئی موقع نہیں تھا، ایسی کوئی شراکت داری نہیں تھی، اور خطرات کو ختم کرنے اور ایسے مواقع لانے کی کوئی صلاحیت نہیں تھی جس کا ہم نے واقعی تصور بھی نہیں کیا تھا۔نیتن یاہو نے کہا کہ وہ قیدیوں کی رہائی، حماس کے خاتمے اور غزہ کو اسرائیل کے لیے خطرہ نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ مکمل تعاون رکھتے ہیں، ہم اسرائیل اور اس کے عوام کے مستقبل کو یقینی بنانے اور تمام عظیم وعدوں کو پورا کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ان کی اور امریکہ کی مشترکہ حکمت عملی ہے اور غزہ کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے خیالات ان کے لیے حیران کن نہیں ہیں اور وہ اس بارے میں پہلے بھی ان کے ساتھ بات کر چکے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تمام تفصیلات ظاہر نہیں کر سکتے۔ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے نیتن یاہو نے دلیل دی کہ وہ امریکہ کے ساتھ ایک مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ کام کر رہے ہیں