سٹی42: اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے ک" اگر حماس نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں اغوا کئے ہوئے باقی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو جہنم کے دروازے کھل جائیں گے۔"
قطر کے نیوز چینل الجزیرہ نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ وزیراعظم نیتن یاہو اسرائیل غزہ کے حوالے سے اپنی پالیسی کی بات امریکہ کے ساتھ "مکمل" تعاون کے ساتھ کر رہا ہے۔
"ہمارے پاس ایک مشترکہ حکمت عملی ہے اور ہم ہمیشہ اس حکمت عملی کی تفصیلات عوام کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتے، بشمول اس بات کے کہ جہنم کے دروازے کب کھولے جائیں گے، تاہم نیتن یاہو نے کہا کہ ایسا یقین یطور پر ہو گا اگر ہمارے تمام یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا، ان میں سے آخری تک کو رہا کیا جانا چاہئے۔"
الجزیرہ نیوز نے نیتن یاہو کی اس بات کو امریکہ کے صدر ٹرمپ کی بار بار دہرائی ہوئی دھمکی کی بازگشت قرار دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دھمکی ابتدا مین دوحہ میں یرغمالیوں کی واپسی کا معاہدہ جلد کروانے کے لئے دی تھی، ایک ہفتہ پہلے جب حماس نے مزید یرغمال یواپس کرنے سے انکار کیا تو صدر ٹرمپ نے یہ دھمکی نئے تناظر مین دی اور کہا کہ اگر حماس نے تمام یرغمالی رہا نہ کئے تو جہنم کے دروازے کھل جائیں گے۔ تاہم اس ہی گفتگو مین انہوں نے کہا تھا کہ یہ ان کی پرسنل رائے ہےئ، فیصلے اسرائیل کو کرنا ہیں۔ اب اتوار کے روز یہی بات اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی طرف سے آئی ہے کہ تمام یرغمالی رہا نہ کئے گئے تو جہنم کے دروازے کھل جائیں گے۔
الجزیرہ نیوز نیتن یاہو کی گفتگو کو رپورٹ کرتے ہوئے مزید بتایا کہ انہوں نے غزہ کو نسلی طور پر پاک کرنے کی ٹرمپ کی تجویز کو پٹی اور اس کے مستقبل کے لیے ایک "جرات مندانہ وژن" بھی قرار دیا، انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ "اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ مستقبل ایک حقیقت بن جائے" بات چیت کی ہے ۔