ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 ٹرکوں کی ہڑتال سے صنعتوں کا پہیہ روکنے کا خدشہ

Goods Transport, Traffic Rules Violation, Protest strike, raw material , supply chain, city42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: ٹرکوں اور ٹرالروں کے مالکان کی ٹریفک رولز وائلیشن پر جرمانوں سے بچنے کے لئے ہڑتال کے باعث صنعت کا پہیہ بھی رکنے لگا۔ کراچی پورٹ سے امپورٹس کی ترسیل رکی ہوئی ہے، پورٹ کی گودیوں پر جگہ نہیں رہی، نیا مال بحری جہازوں سے آف لوڈ کرنے میں تاخیر کا آغاز ہونے لگا ہے۔ ٹرکوں اور ٹرالروں کے مالکان کی ہڑتال سے خام مال کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے اور کئی صنعتیں بند ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  لوہے کے تاجروں اور دیگر  میٹلز کے امپورٹرزکو ہڑتال کی وجہ سے بھاری نقصان ہو رہاہے۔  آئرن مرچنٹس ایسوسی ایشن کے صدر  حماد پونا والا نے بتایا کہ صرف ہمارے تاجروں  کا نقصان اربوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔
 کراچی سے  گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال نے پنجاب میں بھی صنعتی اداروں کی فیکٹریوں  تک  کراچی سے آنے والے خام مال کی ترسیل رکی ہوئی ہے۔

 آئرن مرچنٹس کے نمائندے  حماد پوناوالا نے کہا ہےکہ گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کی وجہ سے مال نہ ملنے سے صنعتیں بند ہونے کا خدشہ ہے،  لوہے کے تاجروں اور دیگر اشیاء کے امپورٹرزکو اربوں روپے کا بھاری نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن سے گزارش ہے کہ مسئلے کو حل کریں۔

اسی دوران  کے سی سی آئی کے صدر ریحان حنیف  نے بھی بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باعث پورے ملک کی انڈسٹری تباہ ہونے کے دہانے پر ہے،  بندرگاہ سے ٹرک اور ٹرالر سامان نہیں لے جا رہے، اس وجہ سے پورٹ پر جگہ نہ ہونے کے باعث مزید خام مال نہیں آرہا، خدشہ ہے کہ جگہ نہ ہونے کے باعث کل اور پرسوں جہاز لنگر انداز نہیں ہوسکیں گے۔