راؤ دلشاد:لاہور میں شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے نصب کیے گئے بیشتر واٹر فلٹریشن پلانٹس چند ہی سالوں میں غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2018 میں لاہور میں 39 واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے گئے تھے، تاہم ناقص معیار کے کام اور بروقت مرمت و دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ان میں سے بیشتر پلانٹس تین سال کے اندر ہی غیر فعال ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب پر مجموعی طور پر 24 کروڑ 85 لاکھ 66 ہزار روپے خرچ کیے گئے تھے۔ پلانٹس کے غیر فعال ہونے کے باعث نہ صرف سرکاری فنڈز کے استعمال پر سوالات اٹھ گئے بلکہ شہری بھی صاف پانی کی سہولت سے محروم رہے۔
معاملے پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے فلٹریشن پلانٹس کی موجودہ حالت سے متعلق دستاویزات آڈٹ حکام کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
کمیٹی نے پنجاب پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو فلٹریشن پلانٹس کی ہینڈنگ اوور اور ٹیکنگ اوور سے متعلق دستاویزات بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ آڈٹ کے عمل کو مکمل کیا جاسکے۔
آڈٹ حکام نے پلانٹس کی کارکردگی، معیارِ تعمیر اور دیکھ بھال کے انتظامات پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ بروقت مرمت اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث سرکاری سرمایہ کاری مؤثر ثابت نہیں ہوسکی۔
حکام سے پلانٹس کی موجودہ صورتحال، غیر فعالیت کی وجوہات اور ان کی حوالگی سے متعلق ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، جس کے بعد ذمہ داری کا تعین کیے جانے کا امکان ہے۔