ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمتوں میں معذور افراد کے کوٹہ سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تمام سرکاری بھرتیوں میں 3 فیصد معذور کوٹہ دینا آئینی اور قانونی تقاضا ہے، اور اس پر عمل درآمد ہر صورت لازمی ہوگا.
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سرکاری بھرتیوں میں معذور افراد کو نمائندگی دینا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، اور اس کوٹہ سے محرومی امتیازی سلوک اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ عدالت کے مطابق معذور افراد کو روزگار فراہم کرنا خیرات نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔
جسٹس راحیل کامران نے ڈاکٹر محمد خرم شہزاد کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ پنجاب ایمپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2022 پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔عدالت نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ معذور کوٹہ کے تحت نئی بھرتیوں کا عمل فوری طور پر شروع کرے اور اس حوالے سے تازہ اشتہار جاری کیا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ آئندہ تمام بھرتیوں میں 3 فیصد کوٹہ ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس سے متعلق کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سرکاری اشتہارات میں کوٹہ شامل نہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے، جبکہ بعد میں کوٹہ شامل کرنا ابتدائی غیر قانونی اقدام کو درست نہیں کرتا۔ فیصلے میں بھرتیوں کے عمل میں شفافیت، مساوی مواقع اور تمام اہل امیدواروں کو درخواست دینے کے لیے مناسب وقت دینے کی ہدایت بھی کی گئی۔
مزید کہا گیا کہ اشتہارات کو اخبارات، ویب سائٹس اور دیگر ذرائع سے وسیع پیمانے پر مشتہر کیا جائے تاکہ تمام مستحق افراد تک معلومات پہنچ سکیں۔ عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی ہدایت کی کہ وہ یہ فیصلہ تمام متعلقہ محکموں تک فوری طور پر پہنچائیں اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ معذور افراد کے حقوق کو نظر انداز کرنا آئین کے تحت ناقابل قبول ہے، اور ان کی معاشی و سماجی خودمختاری کے لیے روزگار تک رسائی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ عدالت نے درخواست نمٹا دی تاہم حکومتی عملدرآمد کو لازمی قرار دے دیا۔