ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں ایک کلو ہیروئن رکھنے کے مقدمے میں نامزد ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ، ڈی پی او قصور عیسیٰ سکھیرا پیش ،عدالت نے ناقص تفتیش پر تفتیشی افسر اور ایس ایچ او کے خلاف سخت کاروائی پر ڈی پی او قصور عیسیٰ سکھیرا کی تعریف کی ، عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔
جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ملزم محمد حمزہ سہیل کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ ,سماعت کے دوران ڈی پی او قصور عیسیٰ سکھیرا ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نزہت بشیر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کے خلاف تھانہ سٹی چونیاں ضلع قصور میں 10 نومبر 2025 کو منشیات کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ کیا ریکوری ہے، جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نزہت بشیر نے بتایا کہ کیس میں ایک ہزار گرام ہیروئن برآمدگی کا الزام ہے۔ عدالت نے مقدمہ درج ہونے کی تاریخ کے بارے میں بھی سوال کیا تو بتایا گیا کہ مقدمہ 11 نومبر 2025 کو درج کیا گیا۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس کیس میں ایک مسئلہ یہ سامنے آیا کہ روڈ سرٹیفکیٹ پہلے جاری ہوا جبکہ مقدمہ بعد میں درج کیا گیا۔ اس پر جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ روڈ سرٹیفکیٹ پہلے کیسے جاری ہو گیا۔ڈی پی او قصور عیسیٰ سکھیرا نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں غلطیاں کرنے والے تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، اسے گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا گیا اور ملازمت سے برطرف بھی کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محرر اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو بھی میجر محکمانہ سزائیں دی گئی ہیں جبکہ مقدمے کی تفتیش بھی تبدیل کر دی گئی ہے۔
اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب معاملہ ہائیکورٹ میں آتا ہے تب ہی نوٹس لیا جاتا ہے۔ جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دئیے کہ آخر ایس پی انویسٹیگیشن کا وہاں کیا کام ہے، کیا وہ صرف سین پر ٹھپے لگانے کے لیے بیٹھا ہے؟ عدالت نے مزید کہا کہ ایسے کیسز میں پولیس کی ناقص تفتیش سے پورے مقدمے کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔عدالت نے ڈی پی او قصور عیسیٰ سکھیرا کی کارروائی کو سراہتے ہوئے ریمارکس دیے کہ "عیسیٰ سکھیرا جیسے پولیس افسر پنجاب میں کہاں سے لے کر آئیں، آپ نے جو ذمہ داری بنتی تھی وہ ادا کی، ویل ڈن۔" شاباش ،جسٹس فاروق حیدر نے مزید ریمارکس دئیے کہ روڈ سرٹیفکیٹ کے معاملے میں پراسیکیوٹر کی بھی ذمہ داری تھی کہ وہ اس کو چیک کرتی۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ جب تک تمام ادارے مل کر کام نہیں کریں گے اس وقت تک منشیات کی لعنت کا خاتمہ ممکن نہیں۔بعد ازاں عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم محمد حمزہ سہیل کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔