لاہور کا چار سو سال پرانا درخت

لاہور کا چار سو سال پرانا درخت

( سعدیہ خان ) لاہور میں چار سو سال پرانا برگد کا درخت آج بھی موجود ہے، ماہرین نباتات کی تحقیق کے مطابق یہ درخت 400 سال پہلے باغ جناح کے احاطے میں سترہویں صدی میں لگایا گیا تھا بعد ازاں ڈویلپمنٹ کے دوران یہ درخت چڑیا گھر کی ملکیت بن گیا۔

لاہور میں کئی تہزیبیں آئیں اور گئیں، لاہور کے وسط میں برگد کے بوڑھے درخت نے زمانے کی ہر آزمائش کا سامنا کیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں برگد یا بوہڑ کے درخت کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی یہاں بسنے والے انسانوں کی تہذیب ہے۔

لاہور چڑیا گھر کے احاطے میں موجود اس درخت نے تاریخ کا مشاہدہ ہی نہیں کیا بلکہ تاریخ کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ بادشاہوں کے ہاتھوں کی پود ہے جو ابھی بھی عظیم وشان طریقے اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔

چوڑے پتوں کی اس صنف کا تعلق فائیکس سے ہے جو پورے برصغیر میں پائی جاتی ہے اسکو پاک وہند کے روحانی اور ثقافتی ورثہ میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔

ادھر گرمی کا زور پکڑتے ہی انسانوں کے ساتھ ساتھ چرند پرند سبھی نڈھال ہوگئے ہیں۔ لاہور چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق چمپینزی، چیتے، شیر اور دیگر کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کیونکہ یہ جانور سرد علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور زیادہ گرمی برداشت نہیں کرسکتے، ان کے پنجروں میں پنکھوں کے ساتھ ساتھ اب اضافی ائیر کولر لگائے گئے ہیں جبکہ ان کے کمروں میں برف رکھی جاتی ہے۔

موسم گرما میں ڈی ہائیڈریشن سے بچانے کے لیے معمول کی خوراک کے ساتھ اضافی وٹامنز دیئے جاتے ہیں۔ چڑیا گھرمیں جو دیگر جانور اور پرندے ہیں ان کے پنجروں میں دن میں دو سے تین مرتبہ پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے تاکہ زمین کی حدت کم ہوسکے۔ بعض جانوروں کے احاطوں میں پانی کی پھوار پیدا کرنے والے شاور لگائے گئے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ جون اور جولائی سخت گرم ترین مہینے ہونگے لہٰذا اس اثنا میں موسمی اثرات سے بچنے کے لیے تمام جانداروں کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔