ویب ڈیسک: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران ریفریز کی جانبداری اور بعض ٹیموں یا معروف کھلاڑیوں کے حق میں فیصلوں پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان ایک نئی تحقیق نے ان خدشات کو تقویت دی ہے۔ تحقیق کے مطابق انسانی ریفری لاشعوری طور پر اسٹار کھلاڑیوں کے حق میں نرم فیصلے کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔
جنوبی کوریا کی کوریا بیس بال آرگنائزیشن نے 2024 کے سیزن میں پچ ٹریکنگ سینسرز اور کیمروں پر مبنی آٹومیٹک بال-اسٹرائیک (ABS) نظام متعارف کرایا، جو یہ تعین کرتا ہے کہ گیند اسٹرائیک زون میں داخل ہوئی یا نہیں۔ نظام کا فیصلہ انسانی امپائر کو موصول ہوتا ہے، جو اس کا باضابطہ اعلان کرتا ہے۔
یونیورسٹی آف مشی گن کے محققین نے اس نظام کے اثرات کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے مطابق، اے بی ایس متعارف ہونے سے قبل انسانی امپائرز بارڈر لائن گیندوں پر معروف بلے بازوں کے حق میں نسبتاً نرم فیصلے کرتے تھے۔تحقیق کی شریک مصنفہ اور کائنیسیولوجسٹ جیمن سونگ کے مطابق، "اے بی ایس سے پہلے جب کوئی بڑا اسٹار بلے بازی کر رہا ہوتا تھا تو امپائرز بارڈر لائن گیندوں پر اس کے حق میں زیادہ سازگار فیصلے دیتے تھے۔"تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اے بی ایس نظام کے نفاذ کے بعد معروف بلے بازوں کی اسٹرائیک زون سے متعلق کارکردگی میں نمایاں کمی آئی، تاہم ان کی مجموعی بیٹنگ کارکردگی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ محققین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں کی صلاحیت نہیں بدلی بلکہ امپائرز کے فیصلوں کا انداز تبدیل ہوا۔لبتہ یہی رجحان معروف پچرز (Pitchers) کے معاملے میں واضح طور پر دیکھنے میں نہیں آیا، کیونکہ انہیں مختلف حالات میں نسبتاً کم مواقع ملتے ہیں۔
تحقیق کے شریک مصنف رچرڈ پالسن کا کہنا ہے کہ بال یا اسٹرائیک کا تعین اور آؤٹ آف باؤنڈز جیسے فیصلے مکمل طور پر معروضی ہوتے ہیں، اسلئے انہیں آسانی سے خودکار نظام کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے۔محققین کے مطابق اس تحقیق کے نتائج صرف کھیلوں تک محدود نہیں بلکہ دفاتر، تعلیمی اداروں اور دیگر شعبوں پر بھی لاگو ہو سک ہیں، جہاں طاقت، شہرت یا حیثیت لاشعوری طور پر فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔