ویب ڈیسک:برطانیہ میں کم عمر نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے نئی تجاویز سامنے آ گئی ہیں، جن کا مقصد رات کے اوقات میں آن لائن سرگرمیوں کو کم کرکے بچوں کی صحت، تعلیم اور خاندانی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
برطانوی حکومت نے 16 اور 17 سال کے نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مذکورہ اوقات میں تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خودکار طور پر بند رہیں گے، تاہم صارفین اگر چاہیں تو سیٹنگز میں تبدیلی کرکے اس پابندی کو غیر فعال کر سکیں گے۔
اس کے ساتھ حکومت آٹو پلے اور لا محدود اسکرولنگ (Infinite Scroll) جیسے فیچرز کو بھی ڈیفالٹ طور پر بند کرنے پر غور کر رہی ہے، تاکہ نوجوانوں میں اسکرین ٹائم کم ہو، نیند کا معیار بہتر ہو، تعلیمی کارکردگی میں بہتری آئے اور اہلِ خانہ کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی حوصلہ افزائی ہو۔
دوسری جانب بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین اور سماجی کارکنوں نے ان تجاویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ یہ پابندیاں صارفین آسانی سے بند کر سکتے ہیں، اس لیے ان کے عملی نتائج محدود رہنے کا خدشہ ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا تھا کہ حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر مکمل پابندی عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جسے انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام قرار دیا تھا۔