ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعظم کےبیٹے سیلمان شہباز شریف کے خلاف باؤنس چیک کیس میں اندراج مقدمہ کا آرڈر معطل کردیا ،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 جولائی کو جواب طلب کرلیا ۔
چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے سیلمان شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی ، پنجاب حکومت کی جانب سے اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل وقاص عمر پیش ہوئے ،، درخواست گزار سیلمان شہباز شریف کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ جسٹس آف پیس کا اندراج مقدمہ کا آرڈر دس جولائی دوہزار پچیس کا ہے ، فریق دوئم کی پٹیشن اور اندراج مقدمہ کی درخواست پر کوئی پتہ نہیں ، سید قتیل انوار الحسن نے اندراج مقدمہ کی درخواست بدنیتی کی بنیاد پر دی گئی ،جسٹس آف پیس نے شریف ملک پرو کمپنی، سلیمان شہباز کے خلاف باؤنس دو چیک ہونے پر اندراج مقدمہ کا حکم دیا ، جبکہ کمپنی کی جانب سے پانچ چیک چوری ہونے کے متعلق 23 مئی 2025 کو تھانہ قائد اعظم انڈسٹریل ایریا میں مقدمہ درج ہے ، درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ عدالت سلیمان شہباز شریف کے خلاف اندراج مقدمہ کا حکم کالعدم قرار دے ، مزید استدعا کی گئی کہ کیس کے حتمی فیصلے تک جسٹس آف پیس کے اندراج مقدمہ کا حکم معطل کیا جائے ، چیف جسٹس نے وکیل کا موقف سننے کے بعد سلیمان شہباز شریف کے خلاف اندراج مقدمہ کے آرڈر پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا اور کیس کی مزید سماعت 31۔ جولائی تک ملتوی کردی ،اس کیس کی تفصیل کے مطابق،شریف ملک پرو کمپنی نے 17 لیپ ٹاپس کی خریداری کی تھی ،لیپ ٹاپس کے کمپنی کے عوض کمپنی نے 6 لاکھ 88 ہزار کے دو چیک دیئے ، چیک باؤنس ہونے پر جسٹس آف پیس نے اندراج مقدمہ کا حکم دیا تھا۔