لندن کی ایک خوف ناک شام ..خاور نعیم ہاشمی کی ایک اور کہانی

لندن کی ایک خوف ناک شام ..خاور نعیم ہاشمی کی ایک اور کہانی

یہ فیصلہ آپ کر لیں کہ یہ کہانی ہے یا سفرنامہ؟

بعض لوگ پاکستان کو غیر مہذب ، غیر تہذیب یافتہ اور جرائم کا گڑھ قراردیتے ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ جو جو بھی یہاں ہوتا ہے وہ دنیا کےہر کونے میں ہوتا ہے،،، پچھلے ہفتے ہم نے لاہور میں100 بچوں کے قاتل کی کہانی آپ کو سنائی تھی ۔ ہماری ریسرچ کے مطابق مغربی دنیا میں بھی  ایک نفسیاتی مریض نے وقفہ وقفہ سے ایک سو عورتوں کو قتل کرکے ان کی لاشیں غائب کردی تھیں۔

ہمار ی آج کی کہانی لندن کے علاقے ارلز کورٹ میں  رہنے والی ایک  عیار بڑھیا کے بارے میں ہے، جو تارک وطن تھی۔۔۔۔

گورے کہتے ہیں کہ انسان 41برس کے بعد میچئور ہوتا ہے ، شاید اسی لئے وہ اپنی اکتالیسویں سالگرہ بگ ڈے کے طور پر مناتے ہیں۔ 1991  میں جب  لندن میں ایک بڑے اخبار کا چیف نیوز ایڈیٹر  تھا تو میرا بگ ڈے ابھی  بہت دور تھا ، شاید اسی لئے کوئی بھی رسک، رسک نہیں لگتا تھا۔ لندن کی سیکڑوں پرباش شاموں میں ایک شام ایسی بھی تھی جس نے تو مجھے لرزا ہی دیا تھا، بارش میں ڈوبی ہوئی یخ ٹھنڈی شام ،جب ایک ساٹھ پینسٹھ سالہ عیار بڑھیا نےہم سے مدد مانگی اور ہم کچھ سوچے سمجھے بغیر اسکی  مدد کو تیار ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ مغفرت کرے بخش لائلپوری کی، اگر لندن میں ان سے ملاقات نہ ہوتی تو یہ واقعہ بھی رونما نہ ہوتا،بخش لائلپوری لدھیانوی لہجے میں گفتگو کرتے تو لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ اردو، پنجابی کےمنجھے ہوئے شاعر ہیں ،انہیں مل کر محسوس ہوتا جیسے ابھی ابھی کسی بھینس کو چارہ ڈال کر آ رہے ہیں یا دودھ دوہنے جا رہے ہیں، ایک دن بخش لائلپوری شام سات بجے کے بعد ایک نوجوان کو مجھ سےملوانےلائے، یہ یونس تنویر ہے، ادیب ہے نہ شاعر، لیکن ادب  و فن سے محبت کرتا ہے، بہت سالوں سے انگلینڈ میں رہ رہا ہے، شادی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑا، ارلز کورٹ جیسے پوش ایریا میں اس کا اپنا اسٹوڈیو اپارٹمنٹ  ہے، جو دوستوں کی محفلوں کے لئے مشہور ہے، میں کل اسی اپارٹمنٹ میں دعوت کا اہتمام کر رہا ہوں، جس میں شرکت کے لئے ناروے سے مسعود منور کو بھی بلوایا ہے، بخش لائلپوری ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ گئے۔ ارلز کورٹ، لندن کا اندرون لاہور ہے جہاں تاریخ سانس لیتی ہے اور اسی لئے شائد لیڈی ڈیانا کا پسندیدہ ترین مقام بھی رہا۔ اگلے دن میں نے راستوں سے نا آشنائی کے باعث اپنے  ایک غیر صحافی دوست عابد خان کو ساتھ لیا اور ہم یونس تنویر کے اپارٹمنٹ تک  پہنچ گئے، بخش لائل پوری ہم سے پہلے وہاں میلہ لگائے بیٹھے تھے، یورپ امریکہ جیسے ملکوں میں دعوتیں کرنے والے بڑے فائدے میں رہتے ہیں مثلآ اگر کسی نےپارٹی رکھی ہے تو سب مہمان ایک ایک،، تحفہ،، ساتھ لے کر آتےہیں، کسی نے فیملیز کو ڈنر پر مدعو کیا ہے تو سب گھروں سے ایک ایک ڈش آجاتی ہے۔ یہ مجھے اس وقت پتہ چلا جب راستے میں عابد خان نے وائن شاپ سے ’’گفٹ‘‘ خریدا۔ اس دعوت میں عارف وقار،مشتاق لاشاری، مشتاق مشرقی،سعید شاہد مرحوم ، افتخار قیصر اور لیاقت دولتانہ بھی موجود تھے، سارے مہمان سمجھ دار تھے جو بخش لائل پوری کو شاعری سنانے سے روکے ہوئے تھے، اور مسعود منور کو بھی طبع آزمائی کا موقع نہیں دیا جا رہا تھا،، میں نے اس اسٹوڈیو اپارٹمنٹ کا بہت غور سے جائزہ لیا، ایک ہی چھت تلے سب کچھ، بیڈ روم، ڈرائنگ روم ،کچن، باتھ روم،بک شیلف سمیت ضرورت کے سب کارنرز، اور سب  کچھ سلیقے اور ترتیب سے۔ اس فلور پر صرف دو ہی اسٹوڈیو روم تھے، ایک لفٹ کے بائیں اور دوسرا دائیں جہاں ہم لوگ مجلس لگائے بیٹھے تھے، میں نے حتمی فیصلہ کر رکھا تھا  پاکستان واپسی کا، اگر وہاں رہنے کا ارادہ ہوتا تو اسی طرح کا اپارٹمنٹ خرید لیتا۔ جب میں نے اپنی اس خیال آرائی کا تذکرہ میزبان یونس تنویر سے کیا تو اس نے اپنی جیب سے ایک چابی نکال کر میری جیب میں ڈال دی، آج کے بعد یہ اپارٹمنٹ صرف میرا نہیں آپ کا بھی ہے۔ جب جی چاہے آئیں، جب جی چاہے جائیں۔ یہ واقعہ  1991ء میں پیش آیا، تنویر آج کل لاہور ہوتا ہے لندن سے ناطہ مکمل طور پر توڑلیا ہے بیمار رہتا ہے اور اپنا سارا وقت رشتے داروں کے گھر میں گزارتا ہے ۔ نہ 1991ءوالا پرسکون ماحول ہےنہ وہ تنویر ہے۔

 اس دعوت کے دو تین ہفتوں بعد ایک دن میں اور عابد خان ،،گلیڈ اسٹون ،، بیٹھے تھے کہ مجھے ارلز کورٹ اور یونس تنویر کا فلیٹ یاد آ گئے، کیوں نہ آج ویک اینڈیونس تنویر کے فلیٹ میں گزارا جائے؟ وہ وہاں ہوا تو ٹھیک ورنہ دوسری چابی ہے میری جیب میں ۔۔

ہم دونوں پب سے باہر آئے،مسلسل ہلکی بارش نے موسم کو محبوبہ بنا رکھا تھا، ہم گاڑی ساتھ لے جانے کی بجائے بورو اسٹیشن   BOUROGH STATION سے ٹیوب میں بیٹھ گئے، گوروں کے اس دیش میں جب کوئی اکیلا لڑکا یا تنہا گوری دکھائی دے تو وہ بہت ٹھنڈے ٹھنڈے اور جذبات سے عاری لگتے ہیں،،،اور جب جوڑی ہو تو ایک دوسرے ساتھ جڑ جاتے ہیں، اس دن ٹیوب میں جوڑے ہی جوڑے تھے، کیونکہ ویک اینڈ تھا، ٹیوب ارلز کورٹ رکی تو ہمیں زیادہ نہیں چلنا پڑا، تین منٹ بعد یونس تنویر کے اپارٹمنٹ کے سامنے تھے،لیکن یہ کیا؟ عمارت کی انٹرنس پر بارش سے بھیگتی ایک بڑھیا رو رہی تھی، ہم نے از راہ ہمدردی رونے کا سبب پوچھا تو اس کی آہیں اور تیز ہو گئیں، وہ بتا رہی تھی کہ اسے ایک فون کال سے اطلاع ملی ہے کہ اس کے شوہر کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے،اس کی حالت نازک ہے اور اسے کسی اسپتال پہنچایا گیا ہے۔ اس کے پاس گاڑی ہے اور نہ ہی ٹیکسی کا کرایہ۔ ہم نے اسپتال کا نام پوچھا تو وہ بولی میں پریشانی میں نام بھول گئی ہوں، عابد بولا، ہم اس عورت کو ٹیکسی میں لے جاتے ہیں، اس کا شوہر کس اسپتال میں ہوگا؟ یہ معلوم کرنا مشکل نہیں ،ٹریفک پولیس کے کنٹرول روم سے سب پتہ چل جائے گا، عابد نے ایک ٹیکسی کو رکنے کا اشارہ کیا تو  بڑھیا روتے روتےبولی، میں کچھ بھول گئی ہوں پہلے اپارٹمنٹ میں جانا ہوگا، اوہ ,یہ بڑھیا تو یونس تنویر کی ہمسائی ہے۔اس نے دروازہ کھولا تو اندر داخل ہوتے ہی پتہ چل گیا کہ یہ گوری مسلمان ہے۔ اس کے فلیٹ کی راہداری کے دونوں اطراف آیات پر مبنی کتبے ٹنگے ہوئے تھے، اس نے ہمیں بتا دیا کہ اس کے باپ دادا بہت پہلے عرب ملک سے یہاں آباد ہو گئے تھے،اس سے آگے سٹنگ روم تھا جہاں ایک پرانا صوفہ سیٹ رکھا تھا، بڑھیا ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور نہ جانے کیوں عابد کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بوتل  اپنے قبضے میں لے لی ،اس کے بعد وہ غسل خانے میں جا گھسی، چار پانچ منٹ گزر گئے تو ہم دونوں کو پریشانی  لاحق ہوئی، اس سے پہلے کہ ہم کچھ کرتے بڑھیا کی آوازیں آنے لگیں، وہ  شاید ہمیں بلا رہی تھی، میں نے عابد سے کہا، میں دیکھتا ہوں، باتھ روم کا دروازہ تھوڑا سا کھلا تھا،  اندر جھانکا تو وہ پانی کے ایک ٹب میں تھی۔ میں فورآ وہاں سے ہٹ گیا اور عابد کو صورتحال سے آگاہ کیا، عابد میری بات سن کر حیرت زدہ رہ گیا،اب اس نے باتھ روم میں جھانکا تو بڑھیا نے اسے اندر آجانے کی دعوت دی، عابد نے اسے گالیاں دینا شروع کیں  تو بڑھیا نے زوردار آواز میں چیخنا شروع کر دیا، پھر وہ ننگے بدن باہر نکل آئی، عابد نے اسے تھپڑ رسید کیا اور باہر بھاگنے  کے لئے دروازے کی چٹخنی کھول لی۔

بڑھیا چیخ رہی تھی اور ہم سیڑھیاں پھلانگ رہے تھے۔ ہمارا رخ  واپس ٹیوب اسٹیشن کی جانب تھا،ٹرین کے آتے ہی ہم اندر گھس گئے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تو ۔

عابد نے سرد موسم میں چہرے کا پسینہ پونچھتے ہوئے، آہستگی سے کہا ’’ بچ‘‘۔ چار پانچ گھنٹوں بعد یونس تنویر کی کال آگئی، وہ کہہ رہا تھا،،، تم کسی دوست کے ساتھ یہاں آئے تھے؟ ۔ تنویر نے بتایا کہ اس کی ہمسائی نے پولیس بلا رکھی ہے، وہ الزام لگا رہی ہے کہ میرے دوست اس کے فلیٹ میں گھس آئے، اس پر تشدد کیا اور لوٹ مار کی۔ میں تھوڑا سا گھبرایا پھر اسے ساری کہانی سنا دی۔ تنویر نے کہا کہ اگر تم یہاں آ جاؤ تو پولیس اس بڑھیا سے سب اگلوا لے گی اس مائی پر پہلے بھی اس طرح کے الزامات لگ چکے ہیں۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا، عابد تمہارے لئے جو تحفہ لایا تھا وہ اس بڑھیا کے قبضے میں ہے، تم کسی طرح وہ نکلواؤ۔ اتنا ہی کافی ہے .اس کے بعد میں جب تک لندن میں رہا کبھی تنویر کے فلیٹ میں نہ گیا-