مسلم لیگ ن کی نگران حکومت کو دھمکیاں دینا مہنگی پڑگئیں


جمال الدین : نگران حکومت کو دھمکیاں دینے پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز  شریف، خواجہ سعد رفیق ، سابق سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے لیے درخواست دائر، سابق حکومت کی جانب سے 12 جولائی کو پریس کانفرنس میں نگران حکومت کو کھلے عام دھمکیاں لگائی گئیں۔

 سٹی 42 نیوز کے مطابق درخواست شہری عبداللہ ملک کی جانب سے دائر کی گئی ہے اندراج مقدمہ کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میاں شہباز شریف، سردار ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق نے 12 جولائی کو پریس کانفرنس میں نگران حکومت کو کھلے عام دھمکیاں لگائی اور کہا 26 جولائی کو حکومت میں آئے گے اور نگران حکومت میں شامل سب لوگوں کو جیل بجھوائیں گے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا مخالفین کی وکٹیں گرانے کا سلسلہ جاری

متن میں کہا گیا ہے کہ پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے نگران حکومت کو برا بھلا کہا اور دھمکیاں دیں شہریوں کی حفاظت کرنا نگران حکومت کی ترجیح ہے۔ شہباز شریف کے بھائی کو قانون کے مطابق عدالت نے سزا سنائی، نگران حکومت کو دھمکاں دینا غیر قانونی اقدام ہے شہباز شریف سمیت دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی۔

پولیس اہلکاروں نے تاحال مقدمہ درج نہیں کیا درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت شہبازشریف سمیت دیگر لیگی رہنما کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کرے۔