ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستانی نژاد بالراور بھارتی نژاد لڑکی کا پیار شادی میں کیسے ہوا تبدیل ؟

پاکستانی نژاد بالراور بھارتی نژاد لڑکی کا پیار شادی میں کیسے ہوا تبدیل ؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) جنوبی افریقہ کے سابق سپن بالر عمران طاہر  کو  پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کے لیے کھیلتے ہوئے بھارتی نژاد جنوبی افریقی خاتون سمیہ دلدار سے پیار ہوگیا ۔عمران طاہر نے پاکستان چھوڑ کر جنوبی افریقہ میں سمیہ سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ 2006 میں پاکستان چھوڑنے کے بعد، طاہر نے سمیہ دلدار سے شادی کرلی۔عمران طاہر کا کرکٹ کا سفر اتنا ہی متاثر کن ہے جتنا ان کی محبت کی کہانی۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ کے سابق کرکٹر عمران طاہر بین الاقوامی کرکٹ کا ایک جانا پہچانا نام ہے۔ انہیں دنیا کے سب سے مہلک دائیں ہاتھ کے لیگ اسپن گیند بازوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ جنوبی افریقہ کے لیے بین الاقوامی کرکٹ میں دھوم مچانے والا یہ کھلاڑی پاکستان میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا۔ تاہم، بعد میں وہ جنوبی افریقہ چلا گیا، جہاں اس نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ شائقین کرکٹ کو شاید معلوم نہ ہو کہ عمران طاہر کو جنوبی افریقہ میں ایک بھارتی لڑکی سمیہ دلدار سے محبت ہو گئی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے پاکستان چھوڑ کر وہیں آباد ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ سمیہ دلدار اب ا نکی بیوی ہیں ۔ 

عمران طاہر 27 مارچ 1979 کو لاہور، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہیں بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق تھا اور وہ محلے میں اپنے دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے تھے ۔ تاہم، اپنے خاندان کی خراب مالی صورتحال کی وجہ سے، انہیں 16 سال کی عمر میں کام کرنا پڑا۔ وہ پیس شاپنگ مال میں سیلز مین کے طور پر کام کرنے لگے ۔ اتنی چھوٹی عمر میں کام کرنا آسان نہیں تھا لیکن محنت اور لگن سے انہوں نے ہر چیز میں مہارت حاصل کر لی۔ اس کے باوجود ان کا واحد خواب کرکٹر بننا تھا۔ جب بھی انہیں کام سے فارغ وقت ملتا وہ بھرپور طریقے سے کرکٹ کی پریکٹس کرتے ۔ آخر کار، ان کی محنت رنگ لائی، اور وہ پاکستان انڈر 19 ٹیم کے ٹرائلز میں منتخب ہوگئے۔

عمران کا خیال تھا کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ سے صرف چند قدم کے فاصلے پر ہیں، لیکن قسمت کے منصوبے کچھ اور تھے۔ متعدد کوششوں کے باوجود انہیں مواقع نہیں ملے۔ دریں اثنا، پاکستان انڈر 19 ٹیم کے دورہ جنوبی افریقہ کے دوران ان کی ملاقات سمیہ دلدار سے ہوئی۔ اس ملاقات نے طاہر کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ سمیہ دلدار ایک جنوبی افریقی اور ہندوستانی نژاد خاتون ہیں۔ وہ سوشل میڈیا سے دور رہتی ہیں اور اپنی ذاتی زندگی کو نجی رکھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ شادی سے پہلے سمیہ ایک پروفیشنل ماڈل تھیں لیکن شادی کے بعد انہوں نے ہاؤس وائف بننے کو ترجیح دی ۔

عمران کے لیے یہ پہلی نظر کا پیار تھا ، لیکن سمیہ نے شروع میں انہیں صرف ایک دوست سمجھا۔ پاکستان واپس آنے کے بعد عمران کو سمیہ کی بہت یاد آنے لگی اور وہ ان سے ملنے جنوبی افریقہ جانے لگے۔ عمران کی سچی محبت دیکھ کر سمیہ بھی اس سے پیار کرنے لگیں ۔ کچھ سال ڈیٹنگ کے بعد دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن ایک بڑا مسئلہ تھا۔ سمیہ ااپنا ملک چھوڑنے کو تیار نہیں تھیں، اور عمران پاکستان میں اپنا کیریئر بنانا چاہتے تھے۔ کافی غور و خوض کے بعد عمران نے محبت کا انتخاب کیا اور پاکستان چھوڑ کر جنوبی افریقہ میں آباد ہونے کا فیصلہ کیا۔

عمران طاہر 2006 میں جنوبی افریقہ چلے گئے اور 2007 میں سمیہ دلدار سے شادی کی۔ چند سال بعد عمران اور سمیہ نے ایک بیٹے کو جنم دیا، جس کا نام انہوں نے جبران رکھا۔ عمران اکثر سوشل میڈیا پر اپنے بیٹے کے ساتھ دلکش تصاویر شیئر کرتے رہتے ہیں۔ شادی کے بعد عمران کے لیے جنوبی افریقی ٹیم میں شامل ہونا آسان نہیں تھا، لیکن سخت محنت کے بعد 2011 میں انہوں نے قومی ٹیم میں شمولیت اختیار کی، اس کے بعد سے عمران طاہر نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور جنوبی افریقہ کے لیے شاندار کیریئر کا آغاز کیا۔ آج بھی بہت سے کرکٹ ماہرین پاکستان کرکٹ بورڈ کو عمران جیسے باصلاحیت کھلاڑی کو موقع نہ دینے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ سمیہ دلدار نے ان کے کامیاب کرکٹر بننے میں اہم کردار ادا کیا۔

عمران کے کرکٹ کیریئر کی بات کریں تو انہوں جنوبی افریقہ کے لیے تینوں فارمیٹس کھیلے: ٹیسٹ، ون ڈے، اور ٹی ٹوئنٹی، اور کئی قابل ذکر ریکارڈ بنائے۔دنیا بھر کی ٹی ٹوئنٹی لیگز کا بھی حصہ رہے ہیں ۔2016 میں، وہ ایک ون ڈے میں 7 وکٹیں لینے والے پہلے جنوبی افریقی بولر بن گئے۔ مزید برآں، وہ آئی سی سی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کے لیے سب سے زیادہ وکٹیں (39) لینے والے واحد اسپنر ہیں۔ عمران طاہر نے 20 ٹیسٹ میچوں میں 57وکٹ ، 107 ون ڈے میچوں میں 173 اور 38 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 63 وکٹیں حاصل کیں۔