سکول کھولنے کے اعلان پراساتذہ کا ردعمل

سکول کھولنے کے اعلان پراساتذہ کا ردعمل

(جنید ریاض)حکومت کی جانب سے سکول کھولنے کا اعلان، نویں سے بارہویں تک کلاسز کا آغاز 18 جنوری سے ہوگا، طلباء کے استقبال کے لئے سکولوں میں تیاریاں شروع کردی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے 18 جنوری سے سکول کھلنے کے اعلان کے بعد اساتذہ نے سکولوں میں طلباء کو ویلکم کرنے کے لئے ابھی سے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ سکول میں صفائی ستھرائی اور رنگ و روغن کا کام جاری ہے، جبکہ طلباء کے مابین سماجی فاصلے کے لئے دائرے بھی کھینچ دیئے گئے ہیں۔ بیشتر سکولوں کو ڈس انفکٹ کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ پیر سے تعلیمی سرگرمیاں شروع کر دی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کی حکومت کا سکول کھولنے کا فیصلہ احسن اقدام ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی طلباء کی پڑھائی کا بہت نقصان ہو چکا ہے، پہلے مرحلے میں بورڈ کلاسز کے آغاز سے طلباء امتحانات کی تیاری کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے 18 جنوری سے باقاعدہ طور پر کھل رہے ہیں، نویں سے بارہویں تک کلاسز کا آغاز 18 جنوری ہورہا، پرائمری سے مڈل سکلاسز اوریونیورسٹیز یکم فروری سے کھل رہیں ہیں،گزشتہ روزوزیر تعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ   تعلیمی ادارے 18 جنوری سےکھلیں گے۔رواں سال بغیر امتحان کسی کو پاس نہیں کیا جائیگا،15 ستمبر کو تمام تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا،اس وقت بیماری لگنے کا ریٹ 1.9 کے قریب تھا،26 نومبر کو تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا تو مثبت شرح 7.14 ہوگئی تھی، ماہرین نے بتایا تھا کہ تعلیمی ادارے بند کرنے سے مثبت شرح کم ہوگی۔کورونا کی مثبت شرح 7.14 سے کم ہوکر 6.10 ہوگئی ہے۔

وفاقی  وزیرتعلیم شفقت محمود  کا کہناتھا کہ ابھی بھی کورونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں،پچھلے 8 ماہ کے دوران تعلیم کا بہت نقصان ہوا ہے،اس سال کسی بچے کو امتحان کے بغیر پاس نہیں کیا جائے گا،18 جنوری سے نویں سے 12 ویں جماعت کی کلاسیں شروع ہوجائیں گی،پرائمری سے 8 ویں تک کی کلاسیں یکم فروری سے کھلیں گی،ہائر ایجوکیشن کے تعلیمی ادارے بھی یکم فروری سے کھلیں گے، ان کا مزید کہناتھا کہ اگلے ہفتے تمام صورتحال پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

پرائمری سے مڈل کی کلاسیں 25 جنوری کے بجائے یکم فروری سے کھلیں گی، علاوہ ازیں اجلاس میں شہروں میں کورونا کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا گیا، شفقت محمود کا کہناتھا کہ اگلے ہفتے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا،شہروں میں کورونا کی شرح دیکھ کر مزید فیصلے کئے جائیں گے۔