سٹی42: صنعت کار عارف حبیب نے کہا ہے کہ ٹاسک فورس نے پراپرٹی سیکٹر نہیں بلکہ تعمیرات کے شعبے میں معاشی نمو تیز کرنے پر بات کی ہے۔
عارف حبیب نے یہ بات ایک نیوز چینل کے ساتھ گفتگو میں کہی۔ اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف کی ہاؤسنگ سیکٹر ٹاسک فورس کے ساتھ ملاقات میں ٹاسک فورس کی طرف سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر مین بزنس کی بہتری کے حوالے سے تجاویز کے متعلق اطلاعات میڈیا میں آئی تھیں۔ عارف حبیب کا کہنا ہے کہ ٹاسک فورس کی تجاویز "تعمیرات کے شعبہ مین گروتھ بہتر کرنے" کے متعلق تھیں۔
صنعت کار عارف حبیب نے کہا کہ ٹاسک فورس نے پراپرٹی سیکٹر نہیں، بلکہ تعمیرات کے شعبے میں معاشی نمو تیز کرنے پر بات کی ہے، ہماری توجہ پلاٹوں کی خریداری بڑھانے پر نہیں۔ عارف حبیب نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ تمام تعمریات پلاٹوں پر ہی ہوتی ہیں۔
عارف حبیب نے کہا، انڈسٹری سے زیادہ تعمیرات پر ٹیکس ہے جو عارف حبیب کے مطابق 115 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، گھروں کی فروخت کیش میں کرنے سے چیزیں دستاویزی نہیں رہتیں، اس سے حکومت ٹیکسوں کی وصولی بھی نہیں کرسکتی۔
عارف حبیب نے تجویز دی کہ جوپرانی غلطیوں کی تلافی کرکے شفاف طریقے سے آگے بڑھناچاہئے، ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے وضاحت کی، ٹیکس میں کمی کی بات ایڈوانس ٹیکس کلیکشن سے متعلق ہورہی ہے۔ جتنا ٹیکس ہے وہ تو دینا ہی پڑےگا۔ تجویزپیشگی ادائیگی میں کمی کی ہے۔
پاکستان بزنس کونسل کے سی ای او احسان ملک نے کہا کہ اگر زیادہ معاشی نمو برقرار رکھنا ہے تو اس کا طریقہ برآمدات میں اضافہ ہے۔ سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے اچھی مالیاتی پالیسی کی ضرورت ہے۔
صنعت کار محمد علی ٹبا نے کہا کہ صنعتی شعبے پر مہنگی بجلی، اضافی ٹیکس اور ملکی صورت حال کا بوجھ ہے، حل یہ ہے کہ توانائی کا شعبہ ڈی ریگولیٹ کیا جائے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بیچ دیا جائے۔