ملک اشرف : چیف جسٹس عالیہ نیلم کی موثر کامیاب پالیسیاں ،سال 2025: لاہور ہائیکورٹ میں بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے ایک لاکھ 66 ہزار سے زائد ریکارڈ فیصلے ہوئے زیر التواء مقدمات کی .
لاہور ہائیکورٹ نے سال 2025 کے دوران بروقت انصاف کی فراہمی کے حوالے سے نئی مثال قائم کر دی ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی مؤثر پالیسیوں اور انتظامی اصلاحات کے باعث نہ صرف مقدمات کے فیصلوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا بلکہ زیر التواء مقدمات کی تعداد میں بھی ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی۔اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 15 دسمبر 2025 کے دوران لاہور ہائیکورٹ میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 66 ہزار 643 مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جو ماضی کے مقابلے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی عرصے کے دوران ایک لاکھ 39 ہزار 490 نئے مقدمات دائر ہوئے، تاہم مؤثر کیس مینجمنٹ کے باعث عدالت عالیہ میں زیر التواء مقدمات کی مجموعی تعداد کم ہو کر ایک لاکھ 69 ہزار 37 رہ گئی ہے۔پرنسپل سیٹ لاہور میں بھی نمایاں پیش رفت سامنے آئی، جہاں رواں سال ایک لاکھ 18 ہزار 281 ریکارڈ مقدمات نمٹائے گئے، جبکہ 75 ہزار 648 نئے مقدمات دائر ہوئے۔ اس وقت پرنسپل سیٹ پر زیر التواء مقدمات کی تعداد کم ہو کر ایک لاکھ تین ہزار 490 رہ گئی ہے، جو عدالتی کارکردگی میں بہتری کا واضح ثبوت ہے۔بہاولپور بنچ میں سال 2025 کے دوران 17 ہزار 754 مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جبکہ 16 ہزار 951 نئے مقدمات دائر ہوئے۔ مؤثر عدالتی اقدامات کے باعث بہاولپور بنچ میں اس وقت زیر التواء مقدمات کی تعداد صرف 17 ہزار چھ سو 59 رہ گئی ہے۔اسی طرح ملتان بنچ میں رواں سال 42 ہزار 714 مقدمات کے فیصلے کیے گئے اور 33 ہزار آٹھ نئے مقدمات دائر ہوئے۔ یہاں زیر التواء مقدمات کی تعداد کم ہو کر صرف 34 ہزار 925 رہ گئی ہے۔راولپنڈی بنچ میں بھی عدالتی کارکردگی قابلِ تحسین رہی، جہاں 17 ہزار 152 مقدمات کے فیصلے ہوئے جبکہ 13 ہزار 883 نئے مقدمات دائر کیے گئے۔ اس وقت راولپنڈی بنچ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد مزید کم ہو کر صرف 12 ہزار 273 رہ گئی ہے۔قانونی ماہرین اور وکلاء برادری کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی قیادت میں اختیار کی گئی بروقت انصاف کی پالیسیاں، کیس مینجمنٹ سسٹم کی بہتری اور عدالتی نظم و ضبط نے عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں سائلین کو جلد انصاف کی فراہمی ممکن ہوئی ہے، جو انصاف کی فراہمی کے نظام کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔