ڈیفنس میں لڑکیوں سے زیادتی، کہانی میں یوٹرن

Lahore women rape by force
Girl Rape

عرفان ملک: معاشرے میں جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافے سے نہ صرف معصوم لڑکیاں عدم تحفظ کا شکار ہو رہی ہیں بلکہ ان کے والدین بھی سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ 

لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس سی میں لڑکیوں کے ساتھ مبینہ طور پراجتماعی زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ تین ملزموں نے گھر میں گھس کر لڑکیوں سے زیادتی کی، ایک ملزم موقع سے گرفتار جبکہ دو افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ واقعے کا مقدمہ متاثرہ لڑکی نورین کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

پولیس زرائع کا کہنا ہے کہ چاروں لڑکیاں پارٹی گرلز ہیں، جو ہارون پٹھان کے گھر میں رہتی تھیں۔ لڑکیوں میں عظمی، نورین، زنیرہ بہنیں اور ایک سہیلی حرا کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ منگل کی رات کو ہارون  پٹھان کو تھانہ ڈیفنس سی پولیس نے بجلی چوری کے مقدمے میں گرفتار کر لیا۔ ہارون پٹھان کے جانے پر چاروں لڑکیاں  اکیلی رہ رہی تھیں۔ لڑکیوں نے ہارون کے پکڑے جانے پر اپنے منیجر خالد کو بتایا کہ ہم اکیلی ہیں۔ زنیرہ نے  وہاں سے جانے کے لیے  اپنے ایک دوست بلال کو فون کر کے آن لائن ٹیکسی بھجنے کو کہا اور منیجر خالد نے چاروں کو رات کے وقت وہاں سے نکلنے سے منع کیا اور تین  افراد کو اس گھر میں بھیج دیا۔

پولیس تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ شراب کے نشے میں دھت ان افراد نے نورین اور زنیرہ سے  باہمی رضا مندی سے ان کے گھر ٹھہرے اس دوران نورین اور زنیرہ کا ان افراد کے ساتھ پیسوں پر جھگڑا ہو ا تو عظمی نے اپنے دوست عمر کو فون کر دیا۔ عمر نے جھگڑے کے بارے پولیس کو 15 پر کال کر دی جس پر پولیس پہنچی تو تینوں فرار ہو گئے۔

یاد رہے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ڈیفنس میں 2 لڑکیوں سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کرلی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ مفرور ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے۔