سٹی 42 : ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کی جارحیت کے خلاف حمایت پر شکر گزار ہیں، حکومت پاکستان کی جانب سے ثالث کے کردار پر اس کے بھی شکر گزار ہیں، ایران پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
آئی آر ایس میں ایران کے خلاف اسرائیل امریکہ جنگ کے علاقے پر نتائیج اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ 47 سال سے ایران انقلاب میں ہے ، اتنے عرصے سے ہم امریکہ اور صیہونی طاقتوں کے دباؤ اور زیادتیوں کا شکار ہیں، یہ طاقتیں اپنی کوششوں میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکیں، آدھی صدی سے تنازعات جاری ہیں اور گہرے سے گہرے ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں ایک حساس پوزیشن پر موجود ہے ۔
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ انقلاب کے بعد ہم نے امریکہ کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی ، حالیہ جنگ ایران پر مسلط کی گئی ہے، یہ ایک دعوی ہے کہ ایران مشرقی وسطی میں بالا دستی چاہتا ہے، ایران کسی سے بھی جارحیت کے حق میں نہیں، ایران میں دہشتگردی کے نتیجے میں 17ہزار شہادتیں ہوئیں، ان میں ہمارے صدر اور وزیر اعظم بھی شامل ہیں، ایران کے خلاف صدام کی حمایت اور عراق کو حملے پر اکسایا گیا، اس کے بعد اٹیمی مسئلہ کھڑا کیا گیا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ اینٹی ایشو کو ایک تنازعہ بنا دیا جو اب بھی جاری ہے، ایران نے پر امن مقاصد کے لیے اینٹی صلاحیت کے حصول پر توجہ دی ، کوئی ملک یہ ثبوت نہیں دے سکا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، آئی اے ایس اے بھی پندرہ مرتبہ اپنی رپورٹ دی چکی ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا ، اسرائیل مشرقی وسطی میں اپنی بالا دستی چاہتا ہے، امریکہ نے بھی ہمشیہ صہیونیوں کی حمایت کی ، اسرائیل امریکہ کی مدد سے ہمیشہ ہمارے خلاف کی کوششوں میں مصروف رہا، ہمارے قومی ہیرو قاسم سلیمانی کو شہید کیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی غیر مقبول فیصلے کیے، ایٹمی مسئلے پر امریکی ایران مذاکرات کے دوران ہمارے درمیان کچھ نکات پر اتفاق ہوا ، یہ مذاکرات اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہے تھے، مذاکرات کے پانچ دور ہوئے، مذاکرات کے دوران امریکہ نے اچانک ایران پر حملہ کر دیا ، حملے کے بارے میں پہلے ہمیں آگاہ نہیں کیا گیا، حالیہ جنگ میں ان کا خیال تھا کہ حملے کے نتیجے میں ایرانی حکومت ختم ہو جائے گی، امریکہ نے ہمارے سکول کے بچوں اور سپریم لیڈر کو شہید کیا، ایران کی عسکری قیادت ، سائنسدانوں اور انٹیلیجنس قیادت کو بھی شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے نقصان کے باوجود ایران متحد ہے، ہمارا سسٹم شخصیات پر نہیں ایک مؤثر ڈھانچے پر قائم ہے۔ ہمارے پاس عظیم کمانڈرز موجود ہیں، اس جنگ میں ایران کو بہت زبردست مالی نقصان پہنچا ہے ، لیکن ایران کھڑا ہے اور اس نے مزاحمت کی ہے ۔
کیا امریکہ کے لیے ممکن ہے کہ وہ امریکہ کے 80 ملین عوام کو مار سکتا ہے، ہم کو امریکہ پر اعتماد نہیں ، یہ بات ہم نے پاکستان کو بھی بتائی ہے۔ امریکہ صہیونیوں اور نیتن یاہو کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرا عظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کی ثالثی کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں ۔