ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کورونا وائرس کے حوالے سے نئی تحقیق سامنے آگئی

کورونا وائرس کے حوالے سے نئی تحقیق سامنے آگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : کورونا وائرس کے حوالے سے نئی تحقیق سامنے آگئی،نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کورونا وائرس فطرتی طور پر بہت ضدی ہے،یہ مخنلف چیزوں پر زیادہ دیر تک رہتا ہے۔

کورونا وائرس پر کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ مہلک وائرس اسٹیل اور پلاسٹ کی تہوں پر چار دن جب کہ فیس ماسک پر ایک ہفتے تک موجود رہ سکتا ہے۔

چینی جریدے کے  مطابق یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کووِڈ 19 یعنی کورونا وائرس پلاسٹ اور اسٹین لیس اسٹیل پر چار دن جب کہ فیس ماسک کی پہلی تہہ پر یہ ایک ہفتے تک موجود رہ سکتا ہے۔


تاہم تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس وائرس کو گھروں میں استعمال کیے جانے والے جراثیم کش محلول یعنی بلیچ یا صابن اور پانی سے دھو کر مارا جا سکتا ہے۔ِیہ سازگار ماحول میں بہت زیادہ متحرک رہتا ہے تاہم عام استعمال کے جراثیم کش محلول اسے باآسانی ختم کر سکتے ہیں۔محققین نے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ یہ ایک کمرے کے درجہ حرارت میں مختلف تہوں پر کتنی دیر تک متحرک رہتا ہے۔ اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ وائرس پرنٹنگ پیپرز اور ٹشو پر تین گھنٹے سے بھی کم عرصےتک رہا جب کہ لکڑی اور کپڑے پر یہ دوسرے دن ختم ہو گیا تھا۔

شیشے اور بینک نوٹوں پر دوسرے بھی اس کی موجودگی دیکھی گئی لیکن چوتھے تک اس وائرس کی ان پر موجودگی نہیں ملی تاہم اسٹیل اور پلاسٹک پر یہ چار سے سات دن تک موجود رہا۔فیس ماسک کی پہلی تہہ پر اس کی موجود سات دن کے بعد بھی دیکھی گئی اور یہ اس وقت بھی متحرک تھا۔


تحقیق میں شامل ایک محقق ملک پائرس کا کہنا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپ سرجیکل ماسک پہنتے ہیں تو اس کی بیرونی تہہ پر ہاتھ نہ لگائیں کیونکہ اس سے آپ اپنے ہاتھوں پر وائرس کو منتقل کر سکتے ہیں جو کہ اگر آنکھ پر لگیں گے تو آپ متاثر ہو جائیں گے۔تقریباً تمام ہی تہوں پر اس وائرس کے ارتکاز میں فوری طور پر کمی دیکھی گئی۔

یاد رہے کہ اس قبل نیچر جرنل میں شائع امریکی تحقیق میں بھی یہ کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس مختلف تہوں پر کئی دن تک متحرک رہ سکتا ہے۔

Azhar Thiraj

Senior Content Writer