صوبے میں بچوں کے جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے:ڈاکٹر مراد راس


قذافی بٹ:پنجاب اسمبلی رکن ڈاکٹر مراد راس کا کہنا ہے کہ جسٹس اعجاز الحسن کے گھر فائرنگ کا واقعہ قابل مذمت ہے لیکن یہ کس نے کروائی صاف معلوم ہوتا ہے۔ سامنے کی بات ہے کہ عدالت کے فیصلوں سے سب سے زیادہ متاثر کون ہو رہا ہے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:بولو لاہور 19نومبر 2018   

ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی ڈاکٹر مراد راس کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی طرف سے پہلے بھی نان اوپن سپریم کورٹ پر حملہ کروایا اور سب کے سامنے ہے گزشتہ ایک سال سے عدالتوں پر زبانی حملے کون کررہا ہے، تکلیف نواز شیرف، مریم نواز شریف ، خواجہ سعد رفیق کو ہورہی ہے اور گولیاں کیا چیچہ وطنی میں چلی ہیں جو ان کو پتا نہیں چلا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں بچوں کے جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے لیکن حکومت کی جانب سے بچوں کے لئے کوئی ٹراما سنٹر قائم نہیں کیا گیا، بتایا جائے ایسے واقعات مین ملوث افراد کو سزا دینے کے لیے کونسا جلد انصاف کا سسٹم بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بتائے کہ گزشتہ چار سالوں میں بچوں پر جنسی تشدد کو روکنے کے کونسے اقدامات کئے قوانین موجود ہیں لیکن عملدرآرمد نہیں کیا جاتا ۔

 انہوں نے کہا کہ طلال چودھری نوازشریف کے لیے کتنی پریس کانفرنسیں کرتے ہیں بتائیں کہ زیادتی کا شکار بچوں کے لئے کتنی پریس کانفرنس کیں۔ پی ٹی آئی رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ دوہزار سترہ میں بچوں سے زیادتی کے ایک سو گیارہ کیسز رجسٹرڈ ہوئے ، دوہزار اٹھارہ میں تین سو بتیس ایف آئی آرز درج ہوئیں سات سو نو کیسز پولیس تک پہنچے ہی نہیں۔